واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکہ نے ایران کے مختلف مقامات پر نئے فوجی حملے کیے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور خطے میں بڑے تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے گئے اور انہیں ’’دفاعی کارروائی‘‘ قرار دیا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی مسلسل اور بلاجواز جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں کے بعد جنوبی ایران کے شہروں بندر عباس، سیریک اور میناب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ حملے ایک روز بعد کیے گئے ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد ایران پر حملہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس حادثے کا ذمہ دار تہران کو قرار دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں انتہائی محتاط رہنے، مقامی خبروں پر نظر رکھنے اور ممکنہ فضائی حدود کی بندش یا سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ واشنگٹن نے عراق کے سفر سے گریز اور وہاں موجود امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اپنی سابقہ ہدایت بھی دوبارہ دہرائی ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کرگیا۔ اس دوران ایران کے حمایت یافتہ عراقی گروہوں نے امریکی فوجی اڈوں اور سفارتی تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مزید جارحانہ کارروائی کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
فوجی ذریعے نے مزید کہا کہ اگر امریکہ نے نئی کارروائی کی تو ایران خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں شہری آبی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی حملے میں دو آبی ذخائر تباہ ہوگئے جن کی مجموعی گنجائش ڈھائی ہزار مکعب میٹر تھی اور یہ دس دیہات کے بیس ہزار سے زائد افراد کو پینے کا پانی فراہم کرتے تھے۔
بقائی نے اس کارروائی کو ’’منصوبہ بند جنگی جرم‘‘ اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر قسم کے دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہے گا۔
ایکس پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ٹرانسپورٹ نظام، بجلی اور پانی کے شعبوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں طاقت نہیں بلکہ ایرانی قوم کے عزم کے سامنے بے بسی کی علامت ہیں۔
ان کا بیان صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر ’’بہت سخت حملے‘‘ کرے گا۔
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا اور اس حوالے سے فوجی کارروائی کی تیاریاں مکمل ہیں۔
انہوں نے سینٹ کام ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں کا مقصد ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور خطے میں امریکی کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
امریکی اور ایرانی قیادت کے سخت بیانات اور تازہ فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ دونوں ممالک مزید اقدامات کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔


