اسلام آباد (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعہ کے روز حکومت پر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے اور توہینِ عدالت کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے معاملے پر ہفتہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کے باوجود انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ طبی معائنے کے بعد عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کے بجائے واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان کو مکمل طبی معائنے اور ضرورت پڑنے پر علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کی توقع تھی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ انہیں الگ سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ عمران خان کی آمد کے منتظر رہے۔ تاہم دو گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو ہسپتال نہیں لایا جائے گا اور ممکنہ طور پر انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی جماعت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کو توہینِ عدالت قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں سیاسی حکمت عملی اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر بھی غور کیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت سے عمران خان کی صحت اور طبی رپورٹس کے معاملے میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔


