ترکیہ کا نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول کارروائی کا مطالبہ، آئی سی سی سربراہ کا عالمی قانون کی حکمرانی کے خاتمے کا انتباہ

0
6

استنبول/واشنگٹن (ایم این این): ترکیہ نے غزہ کے لیے جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے کے معاملے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری کی کارروائی کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر توموکو اکانے نے امریکی پابندیوں کے بعد عالمی قانون کی حکمرانی کے ممکنہ خاتمے سے خبردار کر دیا ہے۔

ترک وزیر انصاف اکین گورلیک کے مطابق وزارت انصاف نے وزارت داخلہ سے نیتن یاہو اور ایک دوسرے اسرائیلی اہلکار افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرانے کی درخواست کی ہے۔

ترک حکام کے مطابق 14 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے وارنٹس کے تحت دونوں افراد پر مبینہ نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، آزادی سے محروم رکھنے، دانستہ حملے، تشدد، املاک کی تباہی، سنگین لوٹ مار اور ٹرانسپورٹ ذرائع کو ہائی جیک کرنے سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی تقریباً 50 کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا سے متعلق ہے، جو غزہ کے لیے امداد اور کارکنوں کو لے کر روانہ ہوا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو روک کر کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں بعد ازاں اسرائیلی تحویل میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔

ترکیہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل کو بڑھتے ہوئے قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ آئی سی سی نومبر 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف غزہ جنگ سے متعلق مبینہ جرائم کے سلسلے میں گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کر چکی ہے۔

دوسری جانب آئی سی سی کی جاپانی صدر توموکو اکانے نے جمعہ کو خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے ان پر عائد پابندیاں بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

پابندیوں کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں توموکو اکانے نے کہا کہ انہیں اس اقدام کا کسی حد تک اندازہ تھا، تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ یہ واقعہ “عالمی قانون کی حکمرانی کے خاتمے” کا آغاز نہ بن جائے۔

امریکہ نے اس ہفتے آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر ٹرائل وکیل عبدالائے سائے پر پابندیاں عائد کیں۔ واشنگٹن نے آئی سی سی پر سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے اور ایسے حکام کے خلاف تحقیقات اور قانونی اقدامات کا الزام عائد کیا، جن کی حکومتوں نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔

امریکی پابندیوں کے تحت دونوں آئی سی سی عہدیداروں کے امریکہ میں داخلے اور امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے لین دین پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

آئی سی سی نے امریکی اقدام کو عدالت کی آزادی پر “کھلا حملہ” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکہ مسلسل آئی سی سی پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، خاص طور پر نومبر 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کے اجرا کے بعد۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں، تاہم فلسطین 2015 سے عدالت کا رکن ہے، جس کے باعث عدالت کو فلسطینی علاقوں میں مبینہ جرائم کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔

دریں اثنا، نیتن یاہو کے دفتر نے ترکیہ کی تازہ قانونی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ترکیہ پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا، جبکہ اسرائیل نے اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں