گوئیژو، چین (MNN)؛ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے دورۂ چین کے دوران جمعہ کو ہواوے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے، جن میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور اسمارٹ عوامی خدمات کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
ہواوے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعلیٰ کے ہمراہ ان کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار، متعدد صوبائی وزراء اور حکومت پنجاب کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی سے لیس صوبہ بنانے کے مشترکہ وژن پر تبادلہ خیال کیا اور انفرادی ٹیکنالوجی منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے صوبہ بھر میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک جامع نظام تشکیل دینے پر گفتگو کی۔
اس مجوزہ تعاون کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی، جدت، روزگار کے مواقع اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
بات چیت میں پاکستان کے اندر محفوظ اور خودمختار اے آئی انفراسٹرکچر کی تعمیر، کمپیوٹنگ صلاحیت اور ڈیٹا سینٹرز کو مضبوط بنانے، اور مرحلہ وار حکومتی اداروں، عوامی خدمات اور مختلف صنعتی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ہواوے نے ایک چار سطحی اے آئی ایکو سسٹم کی تجویز پیش کی، جس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت کی استعداد کار میں اضافہ، اوپن اور کمرشل اے آئی ماڈلز، اور پنجاب کی حکمرانی اور معاشی ضروریات کے مطابق عملی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے ساتھ ہواوے کے مسلسل تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مصنوعی ذہانت سے لیس حکمرانی کے نظام کی تشکیل میں کمپنی کی دلچسپی اور تعاون کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب انتظامی امور میں بہتری، شفافیت، مؤثر فیصلہ سازی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار اور رسائی میں اضافے کے لیے جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مجوزہ شراکت داری کے تحت مقامی ضروریات کے مطابق اے آئی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جائے گی، جس کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ وسائل، متعلقہ ڈیٹا اور خصوصی اے آئی ماڈلز کو یکجا کیا جائے گا۔
اس کا مقصد ایسے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کرنا ہے جو پنجاب کی مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور جنہیں بتدریج سرکاری اداروں اور اہم معاشی شعبوں تک وسعت دی جا سکے۔
افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی تک وسیع اور مساوی رسائی کو بھی پنجاب کی اے آئی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے سرکاری شعبے، صنعت، تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز میں اے آئی سے متعلق مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے تربیتی اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگراموں پر تعاون پر اتفاق کیا۔
مشترکہ وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مجوزہ روڈ میپ میں اے آئی اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، اہم پائلٹ منصوبے شروع کرنا اور کامیاب ماڈلز تیار کر کے انہیں صوبے بھر میں وسعت دینا شامل ہے۔
مذاکرات میں حکومت اور نجی شعبے کے درمیان ایک مؤثر رابطہ اور کوآرڈینیشن نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے، ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے، فیصلہ سازی میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عالمی سطح کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں پنجاب کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار، جدید، اختراعی، شہری دوست اور مصنوعی ذہانت سے لیس صوبہ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ہواوے کی جانب سے اجلاس میں انتھونی گو، گلوبل پریزیڈنٹ ہواوے کلاؤڈ اسٹیک، ٹوڈ لیو، چیئرمین ہواوے پاکستان، اور احمد بلال مسعود، سی ای او ہواوے پاکستان کلاؤڈ اینڈ اے آئی بزنس نے شرکت کی۔
مذاکرات کو چین اور پاکستان کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اسمارٹ گورننس، ڈیجیٹل مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کی بنیاد فراہم ہوگی۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، انسانی وسائل، جدت اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال میں سرمایہ کاری کے ذریعے پنجاب جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی سے لیس صوبہ بننے کے اپنے وژن کی جانب بتدریج پیش رفت کا خواہاں ہے۔


