دوحہ/اسلام آباد (MNN)؛ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے چار جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 شہری زخمی ہوگئے۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور تجارتی مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے حوثی حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور خطرناک کشیدگی قرار دیا۔
المالکی نے حوثیوں پر انتہا پسندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں یمن اور دیگر عرب ممالک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج سعودی شہریوں کے تحفظ اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کریں گی۔
مارب میں حوثیوں کی گولہ باری، دو بچے جاں بحق، 15 زخمی
یمن کے وسطی صوبے مارب میں حوثیوں کی جانب سے بے گھر افراد کے اجتماع پر گولہ باری کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔
سرکاری مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ حوثیوں نے پیر کی شام شمالی مارب کے علاقے رغوان میں بے گھر خاندانوں کے اجتماع پر متعدد گولے داغے۔
حملے میں بے گھر خاندانوں کے گھروں، خیموں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق تقریباً 16 پناہ گاہیں اور ان میں موجود سامان تباہ ہوگیا، جس کے باعث 23 خاندان رہائش اور بنیادی سامان سے محروم ہوگئے، جبکہ تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
حوثی گروپ نے فوری طور پر ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یمنی حکومت کے مطابق مارب میں 22 لاکھ سے زائد بے گھر افراد مقیم ہیں، جبکہ پورے یمن میں بے گھر افراد کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔
روس مشرق وسطیٰ بحران میں ثالثی کے لیے تیار، لاوروف
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کے دوران کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے۔
ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس میں اوپیک پلس کے تحت تعاون بھی شامل ہے۔
حوثی حملوں کے بعد سعودی توانائی تنصیبات میں آگ، آپریشنز متاثر
سعودی وزارت توانائی کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے بعد جنوبی سعودی عرب میں توانائی کی متعدد تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔
وزارت نے بتایا کہ حملوں کے باعث بعض متاثرہ تنصیبات پر آپریشنز عارضی طور پر روکنا پڑے۔
خصوصی ٹیموں نے آگ پر قابو پانے اور متاثرہ مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں شروع کردیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سعودی حکام نے تصدیق کی کہ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 73 شہری زخمی ہوئے۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے خطرے کے ذرائع کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا اعلان کیا۔
مصر کی حوثی حملوں کی شدید مذمت
مصر نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
مصری وزارت خارجہ نے حملوں کو خطرناک کشیدگی، سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیا۔
قاہرہ نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو درپیش خطرات کے مقابلے میں ریاض کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
مصر نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصر اور عرب دنیا کی قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔
سعودی عرب نے بھی حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اعلان کیا اور حوثیوں سے فوری طور پر کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے گریں گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کی فتح کے بعد تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے کم ہوں گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کہا کہ پٹرول کی قیمت بالآخر دو ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہوسکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کی امریکا کو وارننگ، معاشی جنگ پر خلیج میں بحری پابندی کا امکان
ایران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ جاری رکھا تو تہران خلیج فارس میں بحری پابندی کا علاقہ قائم کرسکتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کو ایران کی نئی میزائل صلاحیتوں کے ذریعے واضح پیغام دیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے اپنی آپریشنل حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جبکہ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
قطر کا ایران جنگ میں مرحلہ وار کشیدگی کم کرنے پر زور
قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے فوری خاتمے کے بجائے مرحلہ وار کشیدگی کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ جامع علاقائی مذاکرات اور پائیدار سیاسی حل کے لیے ماحول پیدا کیا جاسکے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ ایسا عارضی وقفہ نہیں چاہتا جو صرف تنازع کو منجمد کردے اور چند ماہ بعد دوبارہ شدید کشیدگی پیدا ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی فوری ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، معاشی دباؤ کم کرنا اور خطے میں مزید فوجی کشیدگی روکنا شامل ہے۔
ان کے مطابق مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت کے ساتھ جامع علاقائی مذاکرات ضروری ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک سست پڑگئی
ایران کی جانب سے نئے امریکی حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد ہفتے کے آغاز پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری ٹریفک میں کمی دیکھی گئی۔
Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے سات کموڈیٹی بحری جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد آٹھ تھی۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی پر ممکنہ اثرات کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یمنی حکومت کا صنعا دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا ہے کہ حوثیوں سے دارالحکومت صنعا دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
یمنی نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ حکومت نے صنعا واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم بعض فوجی منصوبے اور “حیران کن اقدامات” فی الحال ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔
یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے بھی کہا کہ حکومت کا مقصد حوثیوں کے قبضے سے یمن کو آزاد کرانا اور صنعا کو تمام یمنیوں کا دارالحکومت بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے یمن میں تمام شہری برابر کے شریک ہوں گے اور کسی قسم کے انتقام یا امتیازی سلوک کی گنجائش نہیں ہوگی۔
عراق کی آبنائے ہرمز سے تیل برآمدات منتقل کرنے کی کوشش
عراق نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اپنی تیل برآمدات کے راستوں کو آبنائے ہرمز سے دور منتقل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں تاکہ ملک کی آمدنی کے بنیادی ذریعے کو ممکنہ رکاوٹوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی شہری اور توانائی تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ کارروائی قرار دیا جس سے بے گناہ انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا اور علاقائی امن و سلامتی متاثر ہوئی۔
ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حوثی حملوں کی “سخت ترین الفاظ میں” مذمت کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانا سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے کہا کہ یہ حملے پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یمن کے تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے علاقے، شہریوں، رہائشیوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
حوثیوں کا سعودی علاقے کے اندر بڑے فوجی آپریشن کا دعویٰ
یمن کے بیشتر آبادی والے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا، پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے اندر گہرائی تک ایک وسیع فوجی کارروائی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے خمیس مشیط میں سعودی فضائی اڈے اور ابہا، نجران اور جازان میں سعودی سرکاری تیل کمپنی سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر جازان میں ایک بڑی ریفائنری اور پاور پلانٹ سمیت اہم توانائی تنصیبات موجود ہیں۔
سعودی حکام نے بعض مقامات پر آگ لگنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث یہ حملے حالیہ برسوں میں سعودی عرب پر ہونے والی اہم ترین حوثی کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
حوثی میڈیا نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے صنعا کے مشرق میں یمن کے جُبہ ضلع میں چار فضائی حملے کیے۔
اگست میں نسبتاً ایک ماہ کی خاموشی کے بعد خلیج میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت دو فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 99 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں سے عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ اس سے آبنائے ہرمز کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی دیگر اہم سپلائی لائنز بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
سعودی عرب ایک دہائی سے زائد عرصے سے یمن میں حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں جنگ کی شدت کم ہوگئی تھی، تاہم جنگ بندی کی صورتحال دوبارہ خراب ہوگئی ہے اور حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں گزشتہ تین روز کے دوران لڑائی کے باعث 18,500 سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔
سعودی اتحاد کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو روکنے اور اس کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں فضائی حملوں کے ذریعے جنگ میں شدت پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حوثی گروپ ان حملوں کا جواب دے گا۔
خلیج میں وسیع تر جنگ اب امریکا اور ایران کے درمیان طاقت کے بڑے مقابلے میں تبدیل ہوتی جارہی ہے، جہاں دونوں فریق فوجی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ایک دوسرے کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


