نئے صوبوں، معیشت اور امن و امان پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تیاریاں

0
3

اسلام آباد (MNN)؛ اپوزیشن جماعتوں نے نئے صوبوں کے قیام، امن و امان کی صورتحال، معیشت، مہنگائی، بدامنی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سمیت اہم قومی امور پر غور کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے لیے مشاورت تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اعلان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ اپوزیشن کے قیام کے حوالے سے یہ پہلا باقاعدہ اجلاس تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ امن و امان کی صورتحال، معیشت، مہنگائی، بدامنی اور نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آل پارٹیز کانفرنس کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ اس سلسلے میں آئندہ بھی مشاورت جاری رہے گی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس، پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ملک کے آئینی و جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا نے سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

پی ٹی آئی وفد کی قیادت بیرسٹر گوہر علی خان نے کی جبکہ وفد میں سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، فردوس شمیم نقوی اور حسین احمد یوسافزئی شامل تھے۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا اسعد محمود اجلاس میں شریک ہوئے۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے اپوزیشن وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کو اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اجلاس میں مجوزہ اے پی سی، نئے صوبوں کے قیام اور دیگر قومی معاملات پر مشاورت کی گئی۔

اے پی سی کے لیے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی رہنماؤں، جن میں بیرسٹر گوہر بھی شامل تھے، سے ملاقات کی اور جلد از جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 15 ستمبر کو ایک اور اجلاس منعقد کرکے اے پی سی کی تیاریوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی جلد رابطے شروع کیے جائیں گے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی مارچ اور احتجاجی کال کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔

محمود خان اچکزئی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خط کے بعد اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے دفاتر کے درمیان ملاقات کے حوالے سے بھی مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جلد از جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل راجہ ناصر عباس کے سینیٹ چیمبر میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا، جس میں 27 ستمبر کے احتجاج کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔

نئے صوبوں کے قیام پر بحث میں تیزی

نئے صوبوں اور ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا معاملہ حالیہ دنوں میں قومی سطح پر ایک اہم سیاسی بحث بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے ملک کے نظام حکمرانی میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوام کی خواہشات اور حمایت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ 5 ستمبر کو محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نظام کو “ری سیٹ” کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس کا مطلب نظام کو ختم کرنا نہیں بلکہ خرابیوں کو درست کرنا ہے۔

اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر قومی بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ملک میں 12 سے 15 صوبے بنانے کی تجویز پیش کی۔

نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کے معاملے پر حکمران اتحاد کی اہم جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تازہ پیش رفت تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے پہلے سے جاری ان کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے جن کا مقصد متحدہ اپوزیشن تشکیل دے کر مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں