اسلام آباد (MNN)؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے خلاف دائر درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار کے لیے اسلام آباد کے چیف کمشنر کے سامنے مناسب قانونی چارہ جوئی کا راستہ موجود ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی شامل تھے۔
شہری وقاص احمد نے درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا مجوزہ احتجاج وفاقی دارالحکومت میں معمولات زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جس کا مقصد پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل کا درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض
سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو اسلام آباد کے چیف کمشنر کے سامنے مناسب قانونی چارہ جوئی کا اختیار حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب قانون میں متبادل مؤثر راستہ موجود ہو تو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے غیر معمولی دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ درخواست ایک سیاسی جماعت کے مجوزہ احتجاج کے خلاف ہے، لیکن پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی واقعی مجوزہ لانگ مارچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر معاملہ اسی سیاسی جماعت کے احتجاج سے متعلق ہے تو اسے درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔
وزیراعلیٰ کے بیان اور ریاست سے وفاداری پر سوال
چیف جسٹس نے کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل سے یہ بھی پوچھا کہ آیا وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق بیانات سے اتفاق کرتے ہیں۔
شاہ فیصل عثمان خیل نے جواب دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کا دفتر وزیراعلیٰ کے سیاسی بیانیے سے متعلق نہیں بلکہ ان کی سرکاری اور آئینی ذمہ داریوں سے متعلق امور دیکھتا ہے۔
عدالت کی ہدایت پر انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے لیا گیا حلف بھی پڑھ کر سنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ کے کسی بیان سے ان کے آئینی حلف کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ آئینی طور پر ریاست سے وفادار رہنے کے پابند ہیں۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ریاست کے وفادار ہیں۔
انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کے سیاسی بیانات ایڈووکیٹ جنرل کے قانونی دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور تجویز دی کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دونوں کو کیس میں فریق بنایا جائے۔
بعد ازاں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو طلب کرکے صوبائی حکومت کا مؤقف معلوم کیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے بھی ایڈووکیٹ جنرل سے ملتا جلتا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بیانات کا تعلق سیاسی جماعت کی سطح سے ہوتا ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی جانب سے سرکاری افسران کو کسی ہدایت کے بارے میں سوال پر چیف سیکریٹری نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت کے افسران کو اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چیف جسٹس کا احتجاج صوبوں میں کرنے کا مشورہ
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے یاد دلایا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ مجوزہ لانگ مارچ کا مقصد عدلیہ کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ماضی میں پی ٹی آئی نے احتجاجی مارچوں کے حوالے سے عدالتوں کی بعض ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا کسی احتجاج کی باضابطہ اجازت ملنے سے قبل وزیراعلیٰ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان یا اس کی حمایت کرسکتے ہیں۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جلوس اور مارچ سیاسی جماعتیں اور شہری منعقد کرتے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد تمام صوبوں کا دارالحکومت ہے اور اسے صرف یہاں کے رہائشیوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا، اس لیے پرامن لانگ مارچ کو روکا نہیں جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ عدالت بھی قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کے استحکام کی خواہاں ہے، تاہم ان مقاصد کے لیے اسلام آباد آنا ضروری نہیں، احتجاج صوبوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل نے سوال اٹھایا کہ اگر اسلام آباد کے رہائشی احتجاج میں شریک ہوں تو کیا انہیں بھی وفاقی دارالحکومت سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ عدالت میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں بلکہ قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے پیش ہوئے ہیں۔
پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز کے دلائل
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر ظفراللہ خان نے بھی عدالت کے سامنے پیش ہوکر مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ایسے اقدام کے وفاقی دارالحکومت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو جو اسلام آباد کی حدود سے باہر شروع ہو، تو اسلام آباد ہائیکورٹ اس حوالے سے ہدایات جاری کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ شہری آزادیوں کے بھرپور حامی ہیں، تاہم ماضی کے بعض احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر اسلحہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات کا حوالہ دیے جانے پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ان کے دفتر کا وزیراعلیٰ کے سیاسی بیانات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اس درخواست میں فریق نہیں اور ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیر نے کہا کہ معاملہ براہ راست سندھ حکومت سے متعلق نہیں، تاہم عدالت کی جانب سے جاری کسی بھی ہدایت پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل عدنان بشارت نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑے پیمانے پر احتجاج کے باعث تعلیمی اداروں، اسپتالوں، سڑکوں اور شاہراہوں کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے 2019 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے جن میں بڑے پیمانے پر جلوسوں کے منفی اثرات کا ذکر کیا گیا تھا۔
بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ قرار دیا جائے کہ کوئی سیاسی جماعت، صوبائی حکومت یا سیاسی قیادت روزمرہ زندگی کے معمولات کو متاثر کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید سماعت 14 ستمبر، پیر تک ملتوی کردی۔


