وینس، اٹلی (MNN)؛ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں کے موضوع پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں پریمیئر کے موقع پر 25 منٹ تک کھڑے ہو کر زبردست داد دی گئی، جسے فیسٹیول کی تاریخ کی طویل ترین پذیرائی میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں یوال ابراہم اور ریچل زور کی تیار کردہ 80 منٹ کی اس دستاویزی فلم کی تیاری میں تقریباً تین سال کی تحقیقات شامل ہیں۔ فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 ایسے افراد کے انٹرویوز شامل ہیں جنہوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بات کی۔
یوال ابراہم کے مطابق فلم سازوں کا مقصد یہ تھا کہ اسرائیلی فوجی اور افسران خود بتائیں کہ غزہ میں اہداف کی نشاندہی اور ہلاکتوں کے لیے استعمال کیے جانے والے نظام کس طرح کام کرتے تھے۔
فلم میں ’لیونڈر‘ (Lavender) نامی مصنوعی ذہانت سے معاون نظام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ فلم میں شامل سابق اسرائیلی اہلکاروں کے مطابق اس نظام کو ایسے افراد کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جنہیں ہدف بنا کر قتل کیا جانا تھا۔
ان افراد نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل بڑے پیمانے پر ایک فیکٹری کی طرح انجام دیا جاتا تھا۔ بعض سابق اہلکاروں نے اسے ایک ایسے ویڈیو گیم سے تشبیہ دی جس میں کارروائیاں دور بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔
دستاویزی فلم میں غزہ کی بڑے پیمانے پر نگرانی، شہری گھروں کی تباہی اور فلسطینیوں کے خلاف مبینہ نفرت کے ماحول کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایک سابق اہلکار کے مطابق دور سے کارروائیاں کیے جانے کے باعث یہ عمل ویڈیو گیم جیسا محسوس ہوتا تھا، جبکہ ایک دوسرے انٹرویو میں اس تجربے کو انتہائی پریشان کن انداز میں بیان کیا گیا۔
فلم کا نام ’نازا‘ مبینہ طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح سے لیا گیا ہے، جس کے ذریعے کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کی جاتی ہے۔
فلمی جریدے اسکرین نے ’نازا‘ کو ایک انتہائی فوری اور جھنجھوڑ دینے والی دستاویزی فلم قرار دیا، جبکہ دی ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق فلم نے غصے، بے چینی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ فلم غزہ میں جاری جنگ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ غزہ کی حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 73,500 فلسطینی جاں بحق اور 174,500 زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ ماضی میں وزارتِ صحت کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو عمومی طور پر قابلِ اعتماد قرار دے چکا ہے۔ اے ایف پی کی اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار پر مبنی گنتی کے مطابق 7 اکتوبر کے حملوں میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے۔
’نازا‘ رواں سال وینس فلم فیسٹیول کے مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ہے، جبکہ فیسٹیول ہفتے کو اختتام پذیر ہوگا۔ گزشتہ سال فلسطینی بچی ہند رجب کی ہلاکت پر بنائی گئی فلم دی وائس آف ہند رجب کو پریمیئر کے موقع پر 23 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی تھی اور اسے فیسٹیول کا دوسرا انعام بھی ملا تھا۔
یوال ابراہم اور ریچل زور نے امید ظاہر کی کہ ان کی نئی فلم مغربی ممالک کو اسرائیل کے لیے اپنی حمایت پر نظرثانی کرنے اور پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے پر آمادہ کرے گی۔ ابراہم کے مطابق عالمی برادری کی جانب سے کارروائی نہ کرنے سے اسرائیل اور فلسطین میں انسانی حقوق اور سیاسی حل کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔
’نازا‘ کی پروڈکشن برطانوی فلم ساز جم ولسن نے کی ہے، جبکہ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم دی زون آف انٹرسٹ کے ہدایت کار جوناتھن گلیزر اور برطانوی اخبار دی گارڈین بھی اس منصوبے میں شامل ہیں۔
فلم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی شوبز سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات اسرائیلی حکومت کی غزہ سے متعلق پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔ دوسری جانب جنگ کے آغاز سے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی، سوائے اسرائیلی فوج کے ساتھ انتہائی محدود اور کنٹرول شدہ حالات میں داخلے کے۔


