ڈیرہ اسماعیل خان (MNN): ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ہفتہ کے روز دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی امن میلہ پولیس چیک پوسٹ سے ٹکرا دی گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے۔
دھماکے کے بعد ایک اور واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 ایمبولینس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو ریسکیو اہلکار جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
ڈی آئی خان کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) غلام مبشر میکن نے ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 9 مرد، 2 خواتین اور ایک کم عمر بچہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کوئی پولیس یا سکیورٹی اہلکار شامل نہیں تھا، جبکہ ایک کسٹمز اہلکار اور عام شہری بھی متاثرین میں شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ضیاء الدین احمد نے تصدیق کی کہ چیک پوسٹ پر حملہ خودکش دھماکا تھا۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے لدی ٹریکٹر ٹرالی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔
شدید نوعیت کے دھماکے سے امن میلہ چیک پوسٹ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا جبکہ ساتھ واقع ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
امن میلہ چیک پوسٹ مغل کوٹ اور درازندہ کے قریب ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع ہے، جہاں پولیس سکیورٹی اور گاڑیوں کی چیکنگ کرتی ہے۔ یہ مقام خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
آر پی او میکن کے مطابق 25 زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایکسائز آفیسر فہیم وزیر نے بتایا کہ چیک پوسٹ پر موجود ایکسائز اہلکار محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر دھماکے کی نوعیت اور استعمال کیے گئے مواد کا جائزہ لیا۔ ڈی پی او ضیاء الدین احمد اور صدر سرکل کے ایس پی بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 25 سے زائد اہلکار، 6 ایمبولینسیں اور ایک فائر وہیکل شریک ہوئے، جبکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد عارف خان کی ہدایت پر زخمیوں کی منتقلی کے لیے ڈی آئی خان سے مزید چار ایمبولینسیں عملے سمیت روانہ کی گئیں۔
بعد ازاں ریسکیو 1122 نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر سرچ، لاشوں کی بازیابی اور امدادی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق کارروائی کے دوران علاقے میں موبائل فون سروس بھی دستیاب نہیں تھی۔
ایمبولینس پر فائرنگ، 2 ریسکیو اہلکار شہید
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے مقام سے لاشیں منتقل کرنے والی ایمبولینس کو امن میلہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ریسکیو اہلکار شریف اللہ اور امتیاز جاں بحق جبکہ انیس شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طبی امداد فراہم کرکے اسپتال منتقل کیا گیا۔
فائرنگ کے واقعے کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے لاشوں کی منتقلی، زخمیوں کی مدد اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے حملے کو ’’فتنۃ الخوارج‘‘ سے منسوب کیا، جبکہ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی جاری تھی۔
صدر، گورنر اور سیاسی رہنماؤں کی مذمت
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حملے کو ’’فتنۃ الہندوستان خوارج‘‘ کی سازش قرار دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور امدادی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی امن میلہ اینٹی اسمگلنگ پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں قوم کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں اور خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ڈی آئی خان حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
رواں ماہ کے آغاز میں پولیس نے بتایا تھا کہ ڈی آئی خان کے درابن علاقے میں ٹی ٹی پی سے منسلک عسکریت پسندوں کی جانب سے چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی، جس میں پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے، جبکہ رات بھر جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں 8 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
ان واقعات کے بعد پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ’’کیلِبریٹڈ‘‘ فضائی کارروائیاں کیں، جن کے بارے میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ 28 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے ماہانہ اعدادوشمار کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں اگست کے دوران دہشت گردی کے 54 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی، جو 50 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔


