اسلام آباد/پشاور (MNN): قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک اور خط موصول ہوا ہے جس میں انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے تین اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے پر وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کے ساتھ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ’’مہم جوئی‘‘ کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے قریبی ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے پہلے وزیراعظم سے ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس کے آئینی کمرے میں کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم وزیراعظم کی تازہ دعوت میں ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
10 اگست کو وزیراعظم کو لکھے گئے اچکزئی کے خط کے بعد وفاقی کابینہ کے تین ارکان رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ان سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر اچکزئی نے وزیراعظم سے آئینی کمرے میں ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اچکزئی مشاورت کے بعد وزیراعظم کی تازہ دعوت کا جواب دیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، سندھ سے ای سی پی رکن نثار احمد درانی اور بلوچستان سے رکن شاہ محمد جتوئی کی پانچ سالہ آئینی مدت 26 جنوری کو مکمل ہوگئی تھی، تاہم 26ویں آئینی ترمیم کے تحت وہ بدستور اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کی توجہ ای سی پی کے عہدوں پر تقرری کے لیے آئینی تقاضوں کی جانب دلائی تھی۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 213(2A) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وزیراعظم قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوانے کے پابند ہیں۔
اچکزئی نے آرٹیکل 218(2)(b) کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت صوبوں سے ای سی پی ارکان کی تقرری کے لیے بھی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وفاق سے مذاکرات پر زور
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاسکے۔
کے پی ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کوئی مسلح گروپ نہیں اور وہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ’’مہم جوئی‘‘ سے صورتحال ناقابل واپسی مرحلے تک پہنچ سکتی ہے۔
پی ٹی آئی نے پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بعد ازاں اعلان کیا کہ 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس مطالبات پر غور کے لیے 52 دن ہیں۔ مطالبات میں عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال میں طبی علاج کی اجازت، وکلا، اہل خانہ اور عدالت کی جانب سے نامزد 18 پارٹی ارکان سے ملاقات کی سہولت شامل ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھی خطوط لکھے، تاہم سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق خدشات برقرار رہنے کے باعث انہیں اسلام آباد مارچ کا اعلان کرنا پڑا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکانات سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تو پی ٹی آئی کے کارکن 24 گھنٹے کے نوٹس پر سڑکوں پر ہوں گے۔
انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ پشتونوں کو نشانہ بنا کر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے محصولات کے اہداف حاصل کیے اور دہشت گردی کے خلاف پولیس کو وسائل فراہم کیے۔
انہوں نے افغانستان سے متعلق وفاقی پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کے قیام کے لیے افغان طالبان حکومت کے ساتھ دوبارہ رابطے، سرحد کھولنے اور ’’اچھے اور برے طالبان‘‘ کی تفریق ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔
ڈی آئی خان دھماکے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا کا پی ٹی آئی سے مارچ منسوخ کرنے کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے اسلام آباد مارچ منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ڈی آئی خان حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے تھے۔
گورنر نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے متحدہ موقف اختیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو یکجہتی، تحفظ اور ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ پر توجہ دے۔
وزیر اطلاعات کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی کا دفاع کیا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے خیبر پختونخوا سے متعلق کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہے اور پی ٹی آئی کے عسکریت پسند گروہوں سے روابط ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔
پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت سکیورٹی اقدامات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
دریں اثنا مارچ مؤخر کیے جانے کے باوجود اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ وفاقی حکومت نے 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک اسلام آباد اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔


