خیبر پختونخوا کی سکیورٹی، انسداد دہشت گردی پالیسی پر وفاق اور صوبے میں کشیدگی

0
19

پشاور/اسلام آباد (MNN)؛ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی پالیسی پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، جبکہ وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشنز کا ذکر کیا ہے۔

پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بار پھر ریاست کی ’’22 سالہ ناکام پالیسی‘‘ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو صرف وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئی انسداد دہشت گردی پالیسی تشکیل دیتے وقت صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے تو خیبر پختونخوا میں 100 دن کے اندر امن بحال کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے بقول صوبے کی بات سننے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی بجٹ سے 35 ارب روپے پولیس کو منتقل کیے گئے، جس سے پولیس کے بجٹ میں دوگنا اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل برانچ کو مستحکم کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس کو جدید اسلحہ اور ضروری آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کے ساتھ ’’دوہرے معیار‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے سکیورٹی سے متعلق حالیہ بیان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر آئین کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی شرائط پوری ہوئیں تو ایسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں آئین گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا تقاضا کرتا ہے تو یہ اقدامات کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے بھی پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ صوبے میں گورنر راج کے لیے درکار تمام قانونی شرائط موجود ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خبردار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مبینہ بدعنوانی پر بھی سوالات اٹھائے۔

ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے امیر مقام اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر کنڈی نے تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ کو مزید مؤخر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کے لیے اکٹھا کیا جانا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے خیبر پختونخوا چیپٹر نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مطابق انسداد دہشت گردی کے لیے خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے، تاہم صوبائی حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوبہ جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پورے صوبے کے لیے خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلیں اور 11 نائٹ وژن ڈیوائسز موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2026 کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ رواں سال دہشت گرد حملوں کی تعداد بھی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بڑھی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی انتہائی باصلاحیت ہیں اور انہیں جدید اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا صوبائی حکومت کی جانب سے ادائیگی کے باوجود بعض ضروری سامان کی فراہمی میں تاخیر کر رہا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی قیادت کو قیادت، وسائل اور اختیارات فراہم کرنا ہوتے ہیں۔

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی، بلٹ پروف گاڑیوں، تربیت، سیف سٹی منصوبوں اور فرانزک سہولیات کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے اور انسداد دہشت گردی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال پر جواب طلب کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری پوری طرح قبول نہیں کی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر افغانستان اور عسکریت پسند گروہوں کے حوالے سے غیر واضح مؤقف اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

پی ٹی آئی نے وفاقی وزرا کے الزامات مسترد کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور وفاقی حکومت کو الزامات کے بجائے صوبے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

وفاقی حکومت نے افغانستان میں مبینہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات بھی دہرائے۔ طلال چوہدری کے مطابق اسلام آباد نے کابل کے ساتھ مذاکرات، ڈوزیئرز اور عالمی فورمز سمیت مختلف ذرائع سے اپنے تحفظات پہنچائے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تازہ سیاسی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گرد حملوں اور مبینہ سرحد پار ڈرون واقعات کے باعث تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ دفتر خارجہ نے مبینہ ڈرون فضائی حدود کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں