اسلام آباد (MNN): وزیراعظم شہباز شریف کو وطن واپسی پر ملک کی مجموعی داخلی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا، جبکہ صوبے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی وطن واپسی پر ایئر بیس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان سے ملاقات کی اور ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی، جس میں خیبر پختونخوا کے حالات کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا۔
ایئر بیس پر ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں دو الگ الگ اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں خیبر پختونخوا سمیت ملک کی مجموعی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں عسکری حکام، سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ عہدیداران اور وزیراعظم کے قریبی رفقا نے شرکت کی۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال، صوبائی حکومت کے اقدامات، پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ آئندہ لائحہ عمل اور مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب نہ لانے کا پیغام بھی پہنچایا ہے۔ صوبائی حکومت کو مبینہ طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ طرز عمل میں تبدیلی نہ آنے کی صورت میں وفاقی حکومت آئینی اختیارات استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
صوبے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف قانونی و آئینی آپشنز وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے، جن میں ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت دیگر آئینی راستے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم کو پی ٹی آئی قیادت سے ہونے والے پس پردہ رابطوں کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا گیا، جبکہ صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے گی، جس کے بعد صورتحال کے مطابق آئینی و قانونی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر وفاق سنجیدگی سے غور کر رہا ہے: طارق فضل چوہدری
اسی صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے والے اہلکار اور عام شہری جانیں گنوا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔”
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایمرجنسی کا معاملہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر زیر غور نہیں بلکہ صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی ردعمل یا قیمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ مقصد دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں بھی دہشت گردی کا مسئلہ موجود ہے تاہم صوبائی حکومت اس کے تدارک کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔
گوہر علی خان کی ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا جواب سیاسی اقدامات اور مذاکرات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن اور مکمل طور پر سیاسی سرگرمی رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے سیاسی رابطہ کرنا چاہیے۔
گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتیں کرانے اور انصاف کی فراہمی سے موجودہ سیاسی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق گوہر علی خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا مقصد اسلام آباد پہنچنا ہے اور سہیل آفریدی کو عمران خان اور پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو جنوبی خیبر پختونخوا سے شروع ہوگا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس کی قیادت کریں گے۔
سہیل آفریدی لانگ مارچ کی تیاریوں سے ناخوش
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے بعض ارکان کی جانب سے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں میں مبینہ عدم دلچسپی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بعض ارکان کی کم شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کچھ اراکین اجلاس میں ذاتی طور پر شریک ہونے کے بجائے زوم کے ذریعے شریک ہوئے۔
سہیل آفریدی نے کہا، “ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق بھی موجود ہیں۔”
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد روانہ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد اسلام آباد پر قبضہ کرنا نہیں جبکہ وفاقی حکومت مبینہ طور پر ان کا راستہ روک رہی ہے۔
مظاہرین کے پاس لاٹھیاں یا غلیلیں ہونے سے متعلق الزامات پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پرامن طور پر جائیں گے اور “دو ہاتھ اور دو پاؤں کے ساتھ” مارچ کریں گے۔
بعد ازاں ایکس پر اپنے پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا، “آپ تیاری کریں، میں تیار ہوں۔”
ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے بیرون ملک موجود ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں کو پاکستان واپس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ایم پی ایز، ایم این ایز اور پارٹی رہنما 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
گورنر راج کے معاملے پر بھی بحث جاری
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ وفاقی حکام نے لانگ مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف آئینی اختیارات پر غور کا عندیہ دیا ہے۔
21 ستمبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورت میں گورنر راج سمیت قانونی آپشنز پر وزارت قانون سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ تاہم دو روز بعد وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے گریز کرے اور واضح کیا ہے کہ دارالحکومت کو بند کرنے یا امن و امان، ٹریفک اور معاشی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو راستہ بات چیت سے کھولا جا سکتا ہے، وہ لانگ مارچ کے ذریعے نہیں کھولا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی صوبائی حکومت پر احتجاج سے دستبردار ہونے پر زور دیا ہے۔
دریں اثنا، طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ سینیٹر نوید قمر کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات کرے گا، جس میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں قانون سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


