پاکستان کا نظام ری سیٹ ہونے جا رہا ہے، کاروباری برادری کے تعاون کی ضرورت ہے

0
21

لاہور (MNN)؛ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام بڑی تبدیلی اور ری سیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں ملک کے مجموعی حالات میں بہتری آئے گی۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے تجربات اور نظامِ حکمرانی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مجوزہ تبدیلیوں کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ نظام میں اصلاحات کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس عمل میں کاروباری برادری کا تعاون اہم ہوگا۔

وزیر داخلہ نے برآمدات بڑھانے اور ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ مصنوعات کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے بعد ایران نے مقامی پیداوار اور مصنوعات کو فروغ دینے پر توجہ دی۔

نظامِ حکمرانی میں بنیادی اصلاحات پر زور

محسن نقوی اس سے قبل بھی موجودہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے مزید انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی تجویز دے چکے ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بامعنی اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات کے بغیر ملک کو درپیش مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

انہوں نے مؤثر عوامی خدمات، بروقت انصاف اور نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ضروری قرار دیا۔

وزیر داخلہ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اہم آئینی اور نظامِ حکمرانی سے متعلق معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک بار بار کے بحرانوں میں گھرا رہے گا۔

’جمہوریت کے مختلف نظام موجود ہیں‘

محسن نقوی نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، تاہم جمہوری نظام کے اندر حکمرانی کے مختلف ماڈلز موجود ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی نظام کئی دہائیوں سے مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اسی طریقہ کار کو جاری رکھنے کے بجائے بنیادی اصلاحات پر غور کیوں نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ساختی اصلاحات کے بغیر مستقبل میں بھی ملک میں انہی مسائل اور بحثوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں