اسلام آباد (MNN)؛ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کا اجلاس آئندہ ہفتے ریاض میں ہوگا، جس میں بالخصوص سعودی عرب کے خلاف حالیہ حوثی حملوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسلام آباد میں 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے حوالے سے پریس بریفنگ میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ہنگامی اجلاس بلانے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور آرمی چیفس شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے بعد نیویارک میں ملاقات کی تھی، جبکہ تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا اجلاس 25 ستمبر کو ریاض میں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ریاض میں ہونے والے مکمل ایس پی ڈی سی اجلاس میں موجودہ صورتحال اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے گا، خصوصاً سعودی عرب سے متعلق سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ اجلاس ہنگامی نوعیت کا ہوگا، جبکہ کمیٹی کا معمول کا اگلا اجلاس اکتوبر کے اختتام یا نومبر کے آغاز میں متوقع ہے۔
مدینہ میں بجلی کی تنصیب پر حملے کی مذمت
مدینہ میں بجلی کی ایک تنصیب پر مبینہ حوثی حملے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی اس حملے کی مذمت کرچکا ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حوثی حملوں کے معاملے پر ایران سے بھی تفصیلی بات چیت کی۔ اسحاق ڈار کے مطابق ایران نے حوثیوں اور عراقی ملیشیا دونوں سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے تجویز دی ہے کہ حوثیوں کے ساتھ عسکری کارروائی کے بجائے سیاسی طور پر رابطہ کیا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان نیک نیتی سے ہونے والی مشاورت اور ایک تجویز تھی، جبکہ حتمی فیصلہ تینوں ممالک کی ایس پی ڈی سی کرے گی۔
کم از کم چھ ممالک مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے خواہاں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت سے متعلق سوال پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ کم از کم چھ ممالک اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے، اس کے بعد نئے ممالک کی شمولیت پر غور کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کی دستاویز میں دیگر ممالک کے لیے بھی شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے، بشرطیکہ وہ موجودہ رکن ممالک کے طے کردہ اصولوں سے اتفاق کریں۔
7 اگست کو طے پانے والے دفاعی معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازداریت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اتحاد کی پہلی اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا، جس میں ابتدائی تین سال کے لیے اتحاد کا سیکریٹریٹ پاکستان کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا پاکستان کا دورہ متوقع
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے اور امکان ہے کہ وہ اپنی مدتِ منصب ختم ہونے سے قبل پاکستان کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گوتریس نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستانی وفد سے ملاقات کی تھی، جہاں انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی۔
نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان کا دوست اور قدرتی آفات کے دوران ملک کی مدد کرنے والا اہم عالمی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ 31 دسمبر کو مدتِ منصب ختم ہونے سے قبل متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر یہ دورہ جلد ہوگا اور اس کا پروگرام حکومت کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور انتونیو گوتریس کے درمیان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔


