سعودی حوثی کشیدگی میں اضافہ، تین بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے

0
18

ریاض/صنعا (MNN)؛ سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیا۔

یہ کارروائی سعودی قیادت میں اتحاد اور ایران سے منسلک حوثی گروپ کے درمیان حملوں کے تبادلے کے دوران سامنے آئی ہے۔ تازہ کشیدگی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کی جارہی ہے۔

اتحاد کے مطابق اس سے ایک روز قبل خمیس مشیط اور جازان کے علاقوں میں دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرونز بھی روکے گئے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق میزائلوں کے ملبے سے بعض عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر 94 فضائی حملے کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں صنعا، صعدہ، تعز، حجہ، عمران اور البیضا کے علاقے شامل تھے۔

حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ تازہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سعودی حملوں کی مجموعی تعداد 1,350 تک پہنچ گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

تازہ کشیدگی اس سعودی الزام کے بعد بڑھی کہ حوثیوں نے مدینہ منورہ میں ایک بجلی کی تقسیم گاہ کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ سعودی اتحاد کے مطابق حملے سے ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا تاہم مجموعی بجلی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ اتحاد نے کہا کہ ڈرون کے ملبے اور تحقیقات سے حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔

حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔

یمن کے اندر بھی لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے تعز صوبے میں تین گھنٹوں کے دوران حوثی اہلکاروں، فوجی نقل و حرکت، گاڑیوں اور عسکری سازوسامان کو نشانہ بناتے ہوئے 20 فضائی حملے کیے۔

تنازع میں باب المندب آبنائے کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم عالمی بحری راستہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے اور اہم بحری راستے پر کنٹرول بحال کرنے کے لیے یمنی زمینی فورسز کی مدد سے ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، تاہم اس کارروائی کے وقت اور پیمانے کے بارے میں حتمی فیصلہ واضح نہیں۔

ادھر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بھی صورتحال پر غور متوقع ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کے رکن ممالک کا ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے ریاض میں متوقع ہے، جس میں حوثیوں کے معاملے پر سیاسی رابطے سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

تازہ کشیدگی نے خطے میں مزید عدم استحکام، شہریوں کی نقل مکانی اور بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں