سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر حوثی حملے، 3 افراد جاں بحق، 36 زخمی

0
11

ریاض/اسلام آباد (MNN): سعودی حکام نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سعودی عرب میں تین افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوگئے ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق منگل اور بدھ کے روز ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے حملوں کا ذمہ دار کسی فریق کو قرار نہیں دیا۔

حکام کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر ایک مصری اور ایک الجزائری شہری جاں بحق ہوئے جبکہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک سوڈانی شہری جان سے گیا۔

ریاض ایئرپورٹ پر زخمی ہونے والوں میں پانچ سعودی شہری، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائل کے لانچنگ پلیٹ فارم کو تباہ کردیا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ تاہم سعودی قیادت میں اتحاد کا کہنا ہے کہ میزائل کو راستے میں ہی روک دیا گیا تھا۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس کو بھی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حملوں نے اپنے اہداف کو درست طور پر نشانہ بنایا۔

دوسری جانب حوثیوں نے یمن کے شہر عدن کے ہوائی اڈے کے قریب فوجی سازوسامان لے جانے والے قافلے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ایئرپورٹ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

صبا نیوز ایجنسی نے ٹرانسپورٹ حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایک میزائل قاہرہ سے آنے والی پرواز کی متوقع آمد سے چند منٹ قبل رن وے کے قریب گرا، جس کے بعد پرواز کا رخ سعودی عرب کے شہر جدہ کی جانب موڑ دیا گیا۔

تازہ حملے یمن میں خانہ جنگی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے دوران ہوئے ہیں۔ سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کی قیادت کررہا ہے اور یمن کی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے جوابی حملے میں فضائی معاونت فراہم کررہا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہر المخا کے اطراف سے حوثی جنگجوؤں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے زیر قبضہ علاقوں میں موجود ہیں۔

دونوں فریقوں کے میدان جنگ سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ تیزی سے بدلتی صورتحال اور صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث زمینی صورتحال کا آزادانہ جائزہ مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق تازہ لڑائی کے نتیجے میں یمن کے اندر دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کے روز مغربی یمن میں ہونے والی نئی جھڑپوں میں کم از کم 62 جنگجو مارے گئے، جن میں 37 حوثی بھی شامل ہیں۔

صبا نیوز ایجنسی نے مزید بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے حکومتی فورسز کے زیر قبضہ شہر تعز پر میزائل حملے میں پانچ شہری زخمی ہوئے۔

سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف قائم فوجی اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ یمن میں چار سالہ جنگ بندی کے بعد جولائی میں خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوئی، جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساتھ ملک کے مغربی ساحلی علاقوں میں اہم پیش قدمی کی۔

تازہ لڑائی نے یمن کے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، جہاں ملک کی بڑی آبادی انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں