واشنگٹن/اسلام آباد (MNN): ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور پاکستان کی سعودی مملکت میں فوجی موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’’میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ پاکستان کی افواج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی فوجی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی اس اتحاد سے بہت پہلے سے قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی سطح پر تعلقات قائم ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی افواج سعودی عرب میں ’’متعدد صلاحیتوں اور شعبوں‘‘ میں پہلے سے موجود ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے پیر کو ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے دوران سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کی عملی تیاری پر اتفاق کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر عملی پیش رفت شروع کرنے اور طے شدہ فوجی دستوں و صلاحیتوں کی سعودی عرب میں فوری تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اقدامات تینوں ممالک کے منظور شدہ انتظامات اور متعلقہ قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
ریاض اجلاس میں شریک وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی روز جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف اس وقت جنگی کارروائیوں میں سعودی افواج حصہ لے رہی ہیں جبکہ پاکستانی اور ترک افواج معاون کردار ادا کررہی ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ آپریشنل کردار کے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کی ’’تھیٹر میں موجودگی‘‘ ہے، تاہم فی الحال جنگی کارروائیاں سعودی فوج انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو درکار ہر ممکن معاونت فراہم کی جارہی ہے، جبکہ پاکستانی اور ترک افواج اس وقت معاون کردار ادا کررہی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار نگرانی اور معلومات جمع کرنے کے شعبے میں بھی ہے۔
خواجہ آصف اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر یمن کے حوثیوں کے ساتھ تنازع مزید بڑھتا ہے تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ’’عملی اور سفارتی‘‘ طور پر کھڑا ہوگا اور مکہ دفاعی اتحاد کے تحت معاہدے کی شرائط کے مطابق اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
مکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن کے خلاف حملے کو تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کی شق بھی شامل ہے، تاہم اس کا اطلاق معاہدے کی شرائط کے مطابق ہوگا۔
25 ستمبر کو حوثی حملوں کے تناظر میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے عسکری سربراہان نے ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہنگامی مشاورت کی تھی۔
18 ستمبر کو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان خلیجی ملک کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جائے گا اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو ’’غیر مشروط‘‘ قرار دیا تھا۔


