اسلام آباد (MNN): ازبکستان کی جانب سے ’’سنٹرل ایشیا ٹورازم رنگ‘‘ کے قیام کا اقدام وسطی ایشیا کے ممالک کو ایک مشترکہ سیاحتی خطے میں جوڑنے اور خطے کے مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے علاقائی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
ازبک صدر شوکت مرزیایوف نے مئی 2026 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف گورنرز کے سالانہ اجلاس کے دوران ’’سنٹرل ایشیا ٹورازم رنگ‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد شاہراہِ ریشم کے تاریخی شہروں، ثقافتی ورثے، متنوع قدرتی مناظر اور صدیوں پرانی روایات کو مربوط کثیرالمقامات سیاحتی راستوں میں تبدیل کرنا ہے۔
وسطی ایشیا میں ثقافتی و تاریخی سیاحت، مذہبی سیاحت، طبی سیاحت، ماحولیاتی سیاحت، مہم جوئی، نسلی و ثقافتی سیاحت اور ذائقوں سے متعلق سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سیاحتی بنیادی ڈھانچے، خدمات کے معیار، ویزا و سفری سہولیات اور سیاحوں کے تحفظ میں بہتری سے خطے کی عالمی سیاحتی کشش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ازبکستان خطے میں ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا، جبکہ صرف 2025 میں 11.7 ملین بین الاقوامی سیاحوں نے ازبکستان کا رخ کیا۔
’’سنٹرل ایشیا ٹورازم رنگ‘‘ کا تصور وسطی ایشیا سے باہر ان ممالک کے ساتھ بھی تعاون کے امکانات پیدا کرتا ہے جو تاریخی طور پر شاہراہِ ریشم کے ذریعے خطے سے منسلک رہے ہیں۔ ازبکستان اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتا ہوا سیاحتی تعاون اس کی ایک کامیاب مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون کا ادارہ جاتی ڈھانچہ 1996 میں بین الحکومتی معاہدے کے ذریعے قائم ہوا۔ بعد ازاں ازبکستان کی ٹورازم کمیٹی اور آذربائیجان کی اسٹیٹ ٹورازم ایجنسی کے درمیان 2024 تا 2026 کے سیاحتی ایکشن پلان کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دی گئی۔
4 اپریل 2025 کو ازبکستان کے نیشنل پی آر سینٹر اور آذربائیجان ٹورازم بورڈ نے سمرقند میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت ’’جوائنٹ سلک روڈ ہائی لائٹس ٹور‘‘ منصوبے کے ذریعے عالمی منڈیوں میں شاہراہِ ریشم کے مشترکہ سیاحتی راستوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک کی سیاحتی صلاحیت کو ایک مشترکہ سفری تجربے میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں باکو، شماخی، شکی، خیوا، بخارا اور سمرقند جیسے تاریخی شہروں کو شامل کیا گیا ہے۔
مشترکہ سیاحتی راستوں کی تشہیر ویبینارز، روڈ شوز، کاروباری ملاقاتوں اور عالمی سیاحتی صنعت کے نمائندوں کے لیے خصوصی پریزنٹیشنز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اکتوبر 2025 میں ’’ہائی لائٹس آف دی سلک روڈ‘‘ کے عنوان سے مشترکہ روڈ شو جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، ہنگری، جمہوریہ چیک اور اسپین میں منعقد کیا گیا۔ اس دوران دونوں ممالک کی سیاحتی کمپنیوں نے یورپی شراکت داروں سے کاروباری ملاقاتیں کیں اور مشترکہ ٹور پیکیجز کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ ثقافتی پروگراموں میں دونوں ممالک کی روایات اور ورثے کو اجاگر کیا گیا۔
مشترکہ کوششوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ جنوری سے مئی 2026 کے دوران ازبکستان آنے والے آذربائیجانی شہریوں کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 80 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔
دونوں ممالک کے سیاحتی حکام عالمی سیاحتی نمائشوں، صنعتی فورمز، بین الاقوامی تنظیموں کے اجلاسوں، سرکاری دوروں، میڈیا اور سیاحتی ماہرین کے مطالعاتی دوروں کے علاوہ مشترکہ ثقافتی اور ذائقہ جاتی پروگراموں میں بھی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ازبکستان اور آذربائیجان مستقبل میں شاہراہِ ریشم کے مشترکہ سیاحتی راستوں کو مزید وسعت دینے، سیاحتی ماہرین کے تبادلے، سیاحت کے شعبے میں تعلیم و تربیت، استعداد کار میں اضافے اور تیسرے ممالک کی منڈیوں میں مشترکہ تشہیری سرگرمیوں کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’’سنٹرل ایشیا ٹورازم رنگ‘‘ کا اقدام ازبکستان کی کھلے پن، شراکت داری اور علاقائی رابطے کی سیاحتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ منصوبہ کثیرالمقامات سیاحت کے فروغ، بین الاقوامی شراکت داری کے استحکام اور شاہراہِ ریشم کے مشترکہ ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار سیاحتی ترقی کے نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


