پشاور/اسلام آباد (MNN): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ پانچویں روز بھی جاری رہا، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ جمعرات کی شام پشاور پہنچ گیا۔ مارچ کا مقصد پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔
لانگ مارچ کا آغاز 4 اکتوبر کو لکی مروت سے ہوا تھا، تاہم اس کے راستے اور آخری منزل کے حوالے سے متعدد تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔ پی ٹی آئی نے ابتدا میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن تاحال حتمی منزل واضح نہیں کی گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل صوابی پہنچ کر سامنے لایا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے مطابق قافلہ شام چھ بجے کے بعد حیات آباد ٹول پلازہ پہنچا، جہاں سینکڑوں کارکنوں اور حامیوں نے وزیراعلیٰ کا استقبال کیا۔
کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے انہیں ’’حقیقی آزادی کی جدوجہد‘‘ جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والی مشکلات عمران خان کی جیل میں برداشت کی جانے والی تکالیف کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے لیے کارکن اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور کے مختلف علاقوں سے گزرنے کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ صوابی میں ایک اہم حکمت عملی سامنے لائی جائے گی۔
قافلہ لکی مروت سے کوہاٹ پہنچا، 6 اکتوبر کو پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں رات قیام کیا اور 7 اکتوبر کو خیبر جانے کے بعد پشاور کی جانب روانہ ہوا۔
ابتدائی پروگرام کے مطابق قافلے نے جمعرات کو اٹک کے قریب خیرآباد پہنچنا تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے بعد میں اعلان کیا کہ مارچ صوابی تک جاری رہے گا، جہاں پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔
گوہر خان کا انسداد دہشت گردی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی، تاہم بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ملک کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔
گوہر خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور اور رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کی رہائش گاہوں کا دورہ کیا۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ دونوں رہنماؤں کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے۔
انہوں نے مبینہ گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔ گوہر خان کے مطابق فضل شکور کی مبینہ گمشدگی کو 18 روز گزر چکے ہیں، لیکن ان کے اہل خانہ کو تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ فوری نوٹس لے کر دونوں رہنماؤں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی مسئلے کا حل قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل آئینی اور جمہوری طریقوں سے حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے فیصلہ سازوں پر زور دیا کہ عوامی مینڈیٹ اور منتخب حکومتوں کا احترام کیا جائے۔
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے گوہر خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان یا سندھ میں دہشت گردی پاکستان کے خلاف ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی پاکستانی کی جان کا ضیاع قومی نقصان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی ایکشن پلان پر متحدہ قومی پالیسی کے تحت عملدرآمد کیا جائے اور دہشت گردی کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی دہشت گردوں کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔ گوہر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی مخالفین کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے گورنر راج کی مخالفت کرنے پر جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کا شکریہ بھی ادا کیا۔
گوہر خان کے مطابق لانگ مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گا، جس کے تحت 10 اکتوبر کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی میں اجتماعات ہوں گے۔ اس کے بعد پارٹی قیادت آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔
پشاور میں موبائل سروس متاثر
لانگ مارچ کے قافلے کی آمد سے قبل بدھ کی رات سے پشاور کے متعدد علاقوں میں موبائل فون اور سیلولر انٹرنیٹ سروسز معطل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ اعلیٰ حکام کی ہدایات پر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی کے پیش نظر عارضی طور پر سروسز معطل کی گئیں۔
موبائل سروس کی بندش کے باعث بعض والدین کو نجی اسکولوں کی بندش سے متعلق اطلاع بروقت نہیں مل سکی۔ جمعرات کو پشاور کے بعض بڑے نجی اسکول بند رہے، تاہم سرکاری اسکول، کالج اور جامعات کھلے رہے۔
پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے واضح کیا کہ اس کی جانب سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ اتھارٹی نے نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی کہ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک معمول کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں، بصورت دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کا وزیراعلیٰ سے توہین عدالت کی درخواست پر جواب طلب
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر جواب طلب کر لیا۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ظاہر خان کی درخواست پر وزیراعلیٰ کو نوٹس جاری کیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ نے 4 اکتوبر کو پشاور سے لکی مروت جانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرکے 23 اکتوبر 2025 کے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی۔
مذکورہ فیصلے میں سرکاری گاڑیوں، مشینری اور سرکاری عملے کو احتجاج، ریلیوں، لانگ مارچ یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال کے ساتھ پائلٹس، عملے، ایندھن، تکنیکی عملے اور سکیورٹی سمیت دیگر سرکاری وسائل بھی بروئے کار لائے گئے۔ درخواست گزار نے وزیراعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے اور ہیلی کاپٹر کی اجازت، پرواز کے ریکارڈ اور اخراجات کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے وزیراعلیٰ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔


