ٹرمپ کا فورٹ ہُڈ حملہ آور کی پھانسی براہِ راست نشر نہ کرنے کا فیصلہ، متاثرین کے اہلِ خانہ کو شرکت کی اجازت

0
10

واشنگٹن (ایم این این)؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نڈال حسن کی سزائے موت پر عمل درآمد براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا، تاہم متاثرین کے قریبی اہلِ خانہ چاہیں تو ذاتی طور پر اس موقع پر موجود رہ سکیں گے۔

نڈال حسن کی پھانسی 3 دسمبر کو امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر مقرر ہے، جہاں اس نے 2009 میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ یہ 1945 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔

ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے سے دنیا کو یہ دکھا کر جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے امریکی طریقۂ کار کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بہت سے لوگ کسی شخص کی موت کو براہِ راست یا کسی دوسرے بصری ذریعے سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ان کے خیال میں پھانسی کی براہِ راست نشریات دہشت گردوں اور حسن جیسے مجرموں کے خلاف امریکی کارروائی کا مشاہدہ کرنے کے لیے دنیا کے سامنے ایک مؤثر تنبیہ ثابت ہو سکتی تھیں، لیکن بہت سے نیک نیت افراد اسے دیکھنے کے حق میں نہیں تھے۔

امریکی صدر نے تصدیق کی کہ حسن کو مقررہ تاریخ پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، تاہم اس عمل کو نشر نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق متاثرین کے قریبی اہلِ خانہ کو ذاتی طور پر موجود رہنے کی اجازت ہوگی، کیونکہ وہ انصاف ہوتے دیکھنے کے حق دار ہیں۔

پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کی تجویز کو مختلف حلقوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مخالفت کرنے والوں میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، بعض ریپبلکن رہنما، مذہبی شخصیات اور بین الاقوامی مبصرین شامل تھے۔
حالیہ عوامی جائزوں سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ امریکی شہریوں کی اکثریت پھانسیوں کو براہِ راست نشر کرنے کے خلاف ہے۔

اقوام متحدہ نے مبینہ طور پر پھانسی کی براہِ راست نشریات کو ’’تشدد‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکی کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر نے اسے ’’موت کی ثقافت کا وحشیانہ فروغ‘‘ کہا۔ آسٹریلیا اور برطانیہ کے وزرائے اعظم نے بھی اس تجویز کو قابلِ نفرت قرار دیا تھا۔

نڈال حسن، جس کی عمر اب 56 برس ہے، کو اگست 2013 میں فوجی جیوری کی جانب سے پہلے سے منصوبہ بند قتل اور قتل کی کوشش کے مجموعی طور پر 45 الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔

فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد میں سے 12 فوجی تھے، جبکہ زخمی ہونے والے 30 افراد بھی فوجی اہلکار تھے۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے حسن جزوی طور پر مفلوج ہوگیا تھا اور وہیل چیئر تک محدود ہوگیا۔

یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب حسن کو افغانستان میں تعیناتی کے لیے روانہ ہونے میں چند ہفتے باقی تھے۔

امریکی فوجی قانون کے تحت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کے لیے صدر کی منظوری ضروری ہے۔ پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر اس طریقۂ کار کی منظوری دی تھی۔

امریکی فوج میں آخری بار 1961 میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا، جب جان بینیٹ کو ریپ اور قتل کی کوشش کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں