ریاض/صنعاء/اسلام آباد (ایم این این)؛ سعودی عرب نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کے حوثی گروپ کو مملکت کے خلاف حملوں میں شدت لانے کی ترغیب دے رہا ہے، جبکہ تہران بدستور اس گروپ کو اسلحہ، تربیت اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ میں پبلک ڈپلومیسی کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد کرملی نے صحافیوں کو آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کا خیال ہے کہ تنازع کے حالیہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کے پیچھے ایران کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ تنازع کے اس تازہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ایران کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔‘‘
کرملی کے مطابق سعودی عرب ایران کے ساتھ براہ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم تہران بظاہر تنازع کے حل کے لیے ضروری رعایتیں دینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایران سے براہ راست رابطے جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اب تک ایران کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے درکار رعایتوں کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
سعودی عہدیدار نے حوثیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں لڑائی بڑھنے کے باوجود عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات کی سعودی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ان کے مطابق حوثیوں سے رابطے کی آخری کوشش چند ہفتے قبل ہوئی تھی۔
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کو گزشتہ چند روز کے دوران مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ان میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے، جسے کئی برسوں میں وہاں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔
یمن میں خانہ جنگی جولائی میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جنگی صورتحال کے دوران ہوئی، جس نے خطے کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن کا تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سبب بنا ہے، جہاں آبادی کی بڑی تعداد انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے 2015 میں یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرکے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو شہر سے بے دخل کر دیا تھا۔ یہ لڑائی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی تک جاری رہی۔
سعودی اتحاد کا دعویٰ: حوثیوں نے ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی
دوسری جانب یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت کے فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے درجنوں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کرنے کی کوشش کی۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حوثیوں نے رواں ماہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے، جن میں 17 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جنوب مغربی سعودی عرب میں یمن کی سرحد کے قریب واقع ابہا ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں میں بھی تین افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔
المالکی نے الزام لگایا کہ حوثیوں نے علاقائی عناصر کی مدد سے جدید فوجی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، جس میں بیلسٹک میزائل، حملوں اور خودکش کارروائیوں کے لیے ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سے لیس تیز رفتار کشتیاں شامل ہیں۔
اتحاد کے ترجمان کے مطابق یمن کے پہاڑی علاقوں میں 127 اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور میزائل لانچ کرنے کے مقامات تباہ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں۔
اتحاد کے بیان کے بعد حوثی فوجی ترجمان نے سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی وارننگ دہرائی، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اوپر فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔
عدن میں صدارتی محل اور مأرب پر میزائل حملوں کی اطلاعات
یمن میں بھی لڑائی میں شدت دیکھی گئی، جہاں سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں نے عبوری دارالحکومت عدن میں صدارتی محل ’’المعاشیق‘‘ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ یہ محل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا صدر دفتر بھی ہے۔
مقامی شہریوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جبکہ ایک صحافی نے محل کے احاطے سے دھواں اٹھتے دیکھا۔
یمنی حکومت کے تین فوجی ذرائع کے مطابق حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بتایا کہ حوثیوں نے محل کے احاطے پر پانچ میزائل داغے، تاہم وہاں موجود وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز نے کہا کہ حوثیوں نے تیل سے مالا مال اور تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے میں واقع شہر مأرب پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔
حوثی حملوں کے بعد عالمی مالیاتی اداروں کا سعودی عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت
سعودی عرب میں حوثی حملوں میں اضافے کے بعد عالمی مالیاتی اداروں نے بھی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف تین افراد نے بتایا کہ جے پی مورگن اور ڈوئچے بینک نے سعودی عرب میں تعینات اپنے عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی سرمایہ کاری فرم فرینکلن ٹیمپلٹن نے ریاض میں اپنا دفتر عارضی طور پر بند کرکے وہاں تعینات تمام ملازمین کو اگلے حکم تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دفتر دوبارہ کھولنے یا اس انتظام کے خاتمے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
یہ اقدامات گزشتہ ہفتے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں منگل کو تیل کمپنی سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملہ اور اس سے قبل ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
سعودی قیادت کے اتحاد نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ علاقائی عناصر کی مدد سے حوثیوں نے جدید فوجی صلاحیتیں حاصل کی ہیں، تاہم بیان میں مبینہ معاونت فراہم کرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔


