اسلام آباد (MNN)؛ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جمعرات کو زیرِ حراست وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی آئندہ سماعت پر وکلا اور استغاثہ کے گواہوں کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ پولیس نے ملزمان کو عدالت منتقل کرنے کے لیے درکار گاڑی اور نفری کی عدم دستیابی کا جواز پیش کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت جیل میں کرنے کی تجویز دی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق ایمان مزاری کی ان کے وکیل سے نجی ملاقات کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ یہ حکم دفاع کی جانب سے ایک حلف نامہ جمع کرائے جانے کے بعد دیا گیا، جس میں گزشتہ ملاقات کے دوران مبینہ مشکلات اور رازداری متاثر ہونے کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔
مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر 7 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
دفاعی وکلا مسلسل اپنے موکلین سے ملاقات کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ بدھ کو وکلا نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ جج نے ملزمان سے ملاقات تک استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔
جمعرات کو سماعت کے آغاز پر دفاعی وکیل ایمل خان مندوخیل نے عدالت میں حلف نامہ جمع کرایا، جس میں انہوں نے اڈیالہ جیل میں ایمان مزاری سے ملاقات کے دوران پیش آنے والی مبینہ مشکلات بیان کیں۔
حلف نامے کے مطابق، وکیل کو بدھ کے روز دوپہر 2 بج کر 52 منٹ پر ملاقات سے متعلق عدالتی حکم کی مصدقہ نقل ملی اور وہ سہ پہر 3 بج کر 50 منٹ پر جیل پہنچے۔ انہوں نے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو عدالتی حکم پیش کرتے ہوئے جیل قوانین کے مطابق نجی ملاقات کی درخواست کی۔
حلف نامے میں کہا گیا کہ تقریباً ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد شام 4 بج کر 45 منٹ پر ملاقات کی اجازت دی گئی، تاہم ملاقات کے لیے الگ نجی کمرے کے بجائے کانفرنس روم استعمال کیا گیا۔
ایمل خان مندوخیل کے مطابق گفتگو ریکارڈ کیے جانے کے باعث اس کی رازداری برقرار نہیں رہ سکی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مقدمے سے متعلق دستاویزات نہ انہیں ملاقات کے کمرے میں لے جانے دی گئیں اور نہ ہی اپنی موکلہ کے حوالے کرنے کی اجازت دی گئی۔
حلف نامے کے مطابق ایمان مزاری کے ساتھ دو خواتین اہلکار موجود تھیں، کمرے کا دروازہ کھلا رکھا گیا جبکہ مرد عملہ باہر کھڑا تھا، جس کے باعث جیل حکام گفتگو سن سکتے تھے۔ ملاقات شام تقریباً 5 بج کر 10 منٹ پر ختم ہوئی۔
وکیل سے ملاقات کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ وہ مقدمے کی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کر رہے۔ انہوں نے عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں آڈیو اور انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث انہیں عدالتی کارروائی سمجھنے اور اپنے وکلا سے مشاورت میں دشواری پیش آتی ہے۔
انہوں نے اپنے وکیل سے یہ بھی کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے سے متعلق عدالتی احکامات کو چیلنج کیا جائے۔
وکیل ریاضت علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ ایمل خان مندوخیل کو مقدمے کا ریکارڈ ملاقات کے دوران ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایمل مندوخیل کا کہنا تھا کہ ملاقات کے باوجود مقدمے پر مؤثر مشاورت ممکن نہیں ہوسکی۔
جج طاہر عباس سپرا نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ ملزمان کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا اور کیا اس حوالے سے کوئی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رپورٹ پیش نہ ہونے کی صورت میں ایس ایس پی ہیڈکوارٹرز کو طلب کیا جائے۔ بعد ازاں سماعت مختصر وقفے کے لیے صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔
پولیس کی جانب سے جیل ٹرائل کی تجویز
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جج نے ایس پی ہیڈکوارٹرز پری گل کو 15 منٹ کے اندر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جیل حکام نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو عدالت منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ گاڑی طلب کی تھی، تاہم اسلام آباد پولیس نے جواب دیا کہ اس مقصد کے لیے مطلوبہ گاڑی اور ساتھ جانے والے تین اہلکار دستیاب نہیں تھے۔
بعد ازاں ایس پی پری گل نے وضاحت کی کہ پولیس کی بڑی نفری خیبر پختونخوا میں تعینات ہے، اس لیے انہوں نے مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کی تجویز دی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایس پی آفس کی جانب سے جیل ٹرائل کی درخواست بھیجی جاچکی ہے، تاہم اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ پری گل نے تازہ صورتِ حال سے آگاہ کرنے کے لیے دو سے تین گھنٹے کی مہلت طلب کی، جبکہ سرکاری وکیل علی آزاد نے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے پولیس کے طرزِ عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرچکے ہیں اور پولیس یہ معاملہ پہلے بھی اٹھا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ پولیس کیا کر رہی ہے، کیونکہ اس کے اقدامات سے مقدمے کی کارروائی کا رخ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔
وکیل علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو روزانہ عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو عدالت لانے میں اتنی مشکلات کیوں پیش آرہی ہیں اور ملزمان کی عدم موجودگی میں مقدمے کی مؤثر سماعت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ان حالات میں کارروائی ریکارڈ نہ کی جائے۔
اس موقع پر ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے حکام سے سوال کیا کہ جب ان کی بیٹی اور ہادی چٹھہ کو رات 10 بجے عدالت لایا گیا تھا اور ان کے ہمراہ 12 گاڑیاں موجود تھیں تو اب انہیں عدالت منتقل کرنے میں مشکلات کیوں پیش آرہی ہیں۔
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، جہاں جج نے انہیں کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ایس پی پری گل نے بتایا کہ جیل ٹرائل سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن اسی روز جاری کردیا جائے گا۔
ہادی چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے یا جیل میں مقدمے کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ جیل میں ہونے والی کارروائی میں وکلا اور صحافیوں کو بھی شرکت کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے وکلا اور گواہوں کو آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری کا پس منظر
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور آئی ایچ سی بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ دست درازی کے ایک الگ مقدمے میں گرفتاری کے بعد سے زیرِ حراست ہیں۔ ان کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاست دانوں اور صحافیوں نے تنقید کرتے ہوئے منصفانہ ٹرائل کے حق پر زور دیا تھا۔
گرفتاری کے ایک روز بعد سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت دونوں کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان سزاؤں پر وکلا اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی تنقید کی تھی۔
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا۔
تاہم یہ ریلیف عارضی ثابت ہوا اور سپریم کورٹ کے حکم کے چند گھنٹے بعد اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
یہ نیا مقدمہ گزشتہ سال 22 مارچ کو وفاقی دارالحکومت کے کوہسار تھانے میں سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں دونوں پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان کے نام بطور ملزمان شامل کیے گئے تھے۔ مقدمے کے اندراج کے وقت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں تھی۔
ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 188، 341، 506، 353 اور 186 شامل کی گئی تھیں، جو بالترتیب سرکاری حکم عدولی، ناجائز طور پر راستہ روکنے، مجرمانہ دھمکی، سرکاری اہلکار کو فرائض سے روکنے کے لیے حملے یا طاقت کے استعمال، اور سرکاری اہلکار کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق ہیں۔


