امریکہ ایران معاہدے کی امید پر عالمی منڈیاں متحرک، سرمایہ کار مذاکرات کے نتائج کے منتظر

0
11

دوحہ (ایم این این): امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں بدھ کو بھی ردعمل دیتی رہیں، تاہم سرمایہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات جلد نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو یہ امید زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 3.2 فیصد کمی کے بعد 93.48 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی حالیہ کمی برقرار رہی، جسے سرمایہ کار ممکنہ معاہدے سے جوڑ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ایرانی سرکاری میڈیا میں نشر ہونے والے مجوزہ فریم ورک کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ منڈیاں سفارتی پیش رفت کی توقع کر رہی ہیں، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اعتماد تیزی سے کم ہو سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے کیونکہ تاجر امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات کے منتظر ہیں، جس کا مقصد کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا ہے۔

برینٹ خام تیل 94.29 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 88.68 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ دونوں قیمتیں ایک ماہ کی کم ترین سطح تک پہنچ گئیں۔

ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران امریکی دباؤ یا ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے کہا کہ تہران اپنی سرخ لکیروں پر قائم رہے گا جن میں یورینیم افزودگی کا حق، افزودہ یورینیم کا ذخیرہ، آبنائے ہرمز پر اختیار اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ موجودہ تعطل سے نکلنے کے لیے کبھی دھمکی اور کبھی مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔

کیٹو انسٹیٹیوٹ کے سینئر رکن ڈگ بینڈو نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اب بڑی حد تک معاشی محاذ پر آ چکی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جاری پابندیوں کے باعث۔

ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ مشکل صورتحال میں ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اس مسئلے کا حل کسی معاہدے کے بغیر آسان نہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔

شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی صدر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کردار کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں جلد ایک پائیدار معاہدے کی صورت اختیار کریں گی، جس سے خطے میں استحکام، خوشحالی اور تعاون کو فروغ ملے گا۔

وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی اور کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ امریکہ اس وقت تہران کے خلاف پابندیوں میں نرمی پر کوئی بات نہیں کر رہا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں