ایران میں انٹرنیٹ بحالی کا صدارتی اقدام معطل، عدلیہ نے حکم نامہ روک دیا

0
7

تہران (ایم این این): ایران کی عدلیہ نے منگل کے روز اس صدارتی ادارے کی سرگرمیاں معطل کردی ہیں جس نے کئی ماہ کی سخت بندش کے بعد ملک میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عدلیہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ فیصلہ دائر کی گئی شکایات کے بعد کیا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شکایات کس جانب سے جمع کرائی گئیں۔

یہ فیصلہ ملک کی سائبر اسپیس کے نظم و نسق کے لیے قائم خصوصی ہیڈکوارٹر کے خلاف کیا گیا، جسے بارہ مئی کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قائم کیا تھا۔

اس ادارے نے پیر کے روز ملک میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق یہ اقدام صدارتی ہدایت کے تحت کیا گیا تاکہ کئی ماہ سے جاری انٹرنیٹ پابندیوں میں نرمی لائی جا سکے۔

منگل کو اس سے قبل عالمی انٹرنیٹ نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس نے کہا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئی تھی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے تقریباً نوے روزہ بندش کے بعد بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بندش امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد نافذ کی گئی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں