پیوٹن کا روسی پیش قدمی جاری رکھنے کا دعویٰ، زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست ملاقات کی پیشکش کر دی

0
7

سینٹ پیٹرزبرگ / کیف (ایم این این); روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی افواج روزانہ کی بنیاد پر محاذ جنگ پر پیش رفت کر رہی ہیں، تاہم اگر یوکرین سمجھوتے پر آمادہ ہو جائے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن تجاویز کے ذریعے جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔

پیوٹن نے جمعرات کو سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ روس کے سالانہ اقتصادی فورم کے موقع پر بین الاقوامی میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی فوج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہے اور جنگی محاذ پر اس کے پاس برتری موجود ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے پیوٹن کو براہِ راست ملاقات کی دعوت دی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی۔

زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یوکرین اپنی بقا کے لیے جنگ جاری رکھے گا۔

کریملن نے تصدیق کی کہ صدر پیوٹن کو خط کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی اس کے مندرجات کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ممکنہ ملاقات کا خیرمقدم کیا۔

جنگی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس افرادی قوت، صنعتی صلاحیت اور عزم کی برتری موجود ہے اور روسی افواج نے حالیہ عرصے میں تقریباً 2,500 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس لوہانسک کے پورے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے جبکہ دونیتسک کے 85 فیصد سے زائد اور زاپوریژیا کے تقریباً 80 فیصد حصے پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔

یہ وہ علاقے ہیں جنہیں روس نے 2022 میں اپنے ساتھ الحاق شدہ قرار دیا تھا، تاہم یوکرین اور مغربی ممالک اس اقدام کو غیر قانونی قبضہ تصور کرتے ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ روسی پیش قدمی روکنے کے بجائے بہتر یہ ہوگا کہ یوکرین ان سمجھوتوں کو قبول کرے جن پر گزشتہ سال الاسکا میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بات چیت ہوئی تھی۔

ان کے بیان کو روس کے اس دیرینہ مطالبے سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تحت یوکرین کو ڈونباس کے باقی ماندہ علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔ تاہم کیف اس مطالبے کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ اس وقت ایران سے متعلق صورتحال میں مصروف ہیں، تاہم یورپی یونین یوکرین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس سفارتی ذرائع سے جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے اور ان سمجھوتوں پر عملدرآمد کرنے پر آمادہ ہے جن پر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔

پیوٹن نے کہا کہ اگر دونوں فریق متفقہ سمجھوتوں کو قبول کر لیں تو جنگ جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم روسی صدر نے خبردار کرتے ہوئے ہائپرسونک "اوریشنک” میزائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسے ابھی مکمل جنگی حالات میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کی آزمائشی کارروائیوں کے نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اوریشنک ایک جوہری صلاحیت رکھنے والا میزائل ہے جس کی رینج پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ پیوٹن نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اس میزائل کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق سوال پر پیوٹن نے کہا کہ ان کی صحت اور مستقبل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین انہیں 2030 میں دوبارہ انتخابات لڑنے اور 2036 تک اقتدار میں رہنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن فی الحال ان کی توجہ روس کو درپیش اہم مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے کھلے خط میں پیوٹن پر زور دیا کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کریں۔

زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روسی عوام طویل جنگ، مہنگائی، ایندھن کی قلت اور یوکرینی ڈرون و میزائل حملوں سے تھک چکے ہیں اور امن کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی صورتحال کے باعث عالمی توجہ بٹ جانے کے باوجود یورپ میں جاری جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یوکرینی صدر نے تجویز دی کہ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ مکمل جنگ بندی نافذ کی جائے اور یہ جنگ بندی مذاکرات کے پورے دورانیے تک برقرار رہے۔

انہوں نے سوئٹزرلینڈ، ترکی یا عرب ممالک میں کسی غیر جانبدار مقام پر سربراہان کی ملاقات کی تجویز بھی پیش کی۔

زیلنسکی نے پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جنگ سے نکلنے کے راستے کو اختیار کرنے سے نہ گھبرائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روسی قیادت نے جنگ ختم کرنے کا فیصلہ نہ کیا تو یوکرین اپنی آزادی اور بقا کے لیے لڑائی جاری رکھے گا۔

کریملن نے بعد ازاں تصدیق کی کہ خط موصول ہو چکا ہے اور صدر پیوٹن کو اس کے مندرجات سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں