خیبر (ایم این این): ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے سلطان خیل علاقے میں دو افراد کے قتل کے بعد مشتعل زاخہ خیل قبائل نے ہفتے کے روز طورخم جانے والی مرکزی شاہراہ بند کر دی اور علاقے میں امن و امان کی بحالی تک متعدد احتجاجی اور حفاظتی اقدامات کا اعلان کر دیا۔
قبائلی بزرگ ملک عبداللہ خان کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مقامی قبائلی عمائدین سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
قبائلی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ مقامی رضاکاروں پر مشتمل مسلح گشت ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو دیہات اور مختلف علاقوں میں نگرانی کے فرائض سرانجام دیں گی تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرین نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ زاخہ خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے تمام سرکاری ملازمین کو ہدایت کی گئی کہ وہ امن کی مستقل بحالی تک اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام نہ دیں۔
قبائلی عمائدین نے پولیو مہم کے بائیکاٹ اور زاخہ خیل علاقوں میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
احتجاجی قیادت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی سرکاری عہدیدار یا حکومتی نمائندے سے ملاقات نہیں کرے گی جب تک مزرینہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجود مشتبہ شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی۔
قبائلی رہنماؤں نے مقامی پولیس اہلکاروں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر وردی پہننے سے گریز کریں تاکہ انہیں ممکنہ حملوں کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ کالعدم تنظیموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مخبری کرنے والے کسی بھی شخص پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طورخم شاہراہ کی بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حالیہ قتل میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور علاقے کو جرائم پیشہ و مشتبہ عناصر سے پاک نہیں کیا جاتا۔
شاہراہ کی بندش کے باعث افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل بھی معطل ہو گیا اور افغان خاندانوں کو لے جانے والی متعدد گاڑیاں راستے میں پھنس گئیں۔
احتجاج کے دوران زاخہ خیل عمائدین نے نجی گھروں پر ہونے والے متعدد چھاپوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مقامی باشندے گزشتہ کچھ عرصے سے رات کے وقت مرکزی سڑکوں پر خود گشت کر رہے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
یہ احتجاج جمعہ کی شب سلطان خیل علاقے میں دو رشتہ دار افراد کے قتل کے بعد شروع ہوا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے دونوں افراد کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے بعد قریبی پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے، جس کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا گیا، تاہم فوری طور پر کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
حکام کے مطابق رمضان کے بعد یہ علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بھی نامعلوم مسلح افراد دو پولیس اہلکاروں اور ایک پولیس افسر کے کم عمر رشتہ دار کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔


