تہران/اسلام آباد (ایم این این): ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، بصورت دیگر مزید حملوں یا ایران کے اقدامات کے جواب میں اسے پہلے سے زیادہ سخت اور نقصان دہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اتوار کو جاری بیان میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کی مشترکہ فوجی کمان نے کہا کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر بیروت کے علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کا دائرہ وسیع کیا گیا تو مقبوضہ علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ضاحیہ میں جاری کارروائیوں میں توسیع کی صورت میں ایران اپنی جوابی کارروائیاں مزید بڑھائے گا اور اسرائیل کو ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جن پر اسے شدید پشیمانی ہوگی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں، جو اپریل میں نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد پہلا ایسا واقعہ ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے میزائل داغے جانے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد متعدد علاقوں میں ہنگامی سائرن فعال کیے گئے۔
صورتحال کے پیش نظر اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے پیر کے روز ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق سیکیورٹی جائزے کے بعد پورے ملک میں محدود سرگرمیوں کی ہدایات نافذ کر دی گئی ہیں اور تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران نے میزائلوں کی ایک دوسری لہر بھی فائر کی ہے۔
فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام آنے والے خطرات کی نشاندہی اور انہیں تباہ کرنے کے لیے مسلسل کارروائی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابتدائی حملے میں داغے گئے تمام میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا گیا جبکہ مزید لانچ ہونے والے میزائلوں کے خلاف بھی دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔
تازہ کشیدگی نے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے، جبکہ نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی سفارتی کوششوں کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔


