اسلام آباد (ایم این این): سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اور اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تیزاب گردی ایسا سنگین جرم ہے جو قتل سے بھی زیادہ ہولناک ہے، کیونکہ قتل کا شکار ہونے والا شخص ایک بار جان سے جاتا ہے جبکہ تیزاب حملے کا متاثرہ فرد زندگی بھر جسمانی، ذہنی اور سماجی اذیت برداشت کرنے پر مجبور رہتا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے فیصل آباد میں ایک نوجوان خاتون پر تیزاب پھینکنے کے جرم میں سزا یافتہ عبد المنان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا کو برقرار رکھا۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی جانب سے تحریر کردہ چودہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ موت انسان کو صرف ایک بار اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، جبکہ تیزاب حملے کا شکار شخص روزانہ اپنی تکلیف، صدمے اور بگڑی ہوئی جسمانی حالت کے ساتھ جینے پر مجبور ہوتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حملوں کا مقصد صرف جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ متاثرہ شخص کی شناخت، عزت، اعتماد اور مستقبل کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ کوئٹہ کے سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے حالیہ تیزاب حملے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے خلاف ڈاکٹروں نے ہڑتال کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سفارش کی کہ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے خصوصی قانون سازی کے ذریعے ’’قومی بحالی فنڈ برائے متاثرینِ تیزاب گردی‘‘ قائم کیا جائے۔
عدالت کے مطابق اس فنڈ کے ذریعے متاثرین کو تعمیر نو کی سرجریوں، خصوصی جسمانی علاج، نفسیاتی مشاورت، سائیکو تھراپی اور نفسیاتی نگہداشت سمیت مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
فیصلے میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ وہ متاثرین جو مستقل معذوری یا طویل طبی مسائل کے باعث روزگار کمانے سے قاصر ہوں، انہیں ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔
جسٹس کاکڑ نے یہ بھی تجویز دی کہ قومی سطح پر بحالی کے رہنما اصول مرتب کیے جائیں تاکہ تمام سرکاری اور نجی طبی مراکز میں متاثرین کو زندگی بھر مفت طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات میسر رہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ تیزاب گردی دراصل مردانہ بالادستی، صنفی تشدد اور خواتین کے خلاف تعصب کا ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ ماضی میں ایسے متعدد واقعات شادی کی پیشکش مسترد ہونے، جنسی ہراسانی کی مزاحمت یا جہیز اور خاندانی تنازعات کے نتیجے میں پیش آتے رہے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین پر تیزاب پھینکنے کا مقصد ان کی سماجی شناخت کو ختم کرنا اور انہیں معاشرتی طور پر زندہ لاش بنا دینا ہوتا ہے۔
جسٹس کاکڑ نے کہا کہ اس جرم کے خاتمے کے لیے دوہری حکمت عملی ضروری ہے، جس میں سخت سزاؤں کے ساتھ ساتھ تیزابی اور کھرچنے والے کیمیائی مادوں کی فروخت پر سخت نگرانی شامل ہو۔
انہوں نے بنگلہ دیش اور کمبوڈیا سمیت مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی اور سخت ضابطوں کے ذریعے ایسے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ 2011 میں پاکستان میں قانون سازی کے ذریعے تیزاب گردی کو سنگین جرم قرار دیا گیا، تاہم ایسے واقعات کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ صرف سزائیں کافی نہیں ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک تیزابی مادے آسانی سے دستیاب رہیں گے، سزاؤں کا خوف مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکے گا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025 کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون جرم کے بعد سزا دینے کے بجائے جرم کو پہلے ہی روکنے پر توجہ دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے سخت لائسنسنگ نظام نافذ کیا گیا ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو تیزاب فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
عدالت نے امید ظاہر کی کہ ایسے قوانین پر مؤثر عملدرآمد سے خطرناک کیمیکلز کی دستیابی محدود ہوگی اور تیزاب گردی جیسے جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ تیزاب حملے کے متاثرین کی مشکلات عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ختم نہیں ہوتیں بلکہ اصل آزمائش اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب انہیں متعدد تکلیف دہ سرجریوں، بحالی کے مراحل اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عدالت نے ارم سعید اور میمونہ خان کی مثالیں بھی پیش کیں، جنہیں تیزاب حملوں کے بعد بالترتیب 25 اور 21 تعمیر نو کی سرجریوں سے گزرنا پڑا۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر کمزور عملدرآمد کے باعث ملک بھر میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔
عدالت نے تمام ہائی کورٹس کو ہدایت کی کہ تیزاب گردی کے مقدمات کی نگرانی کریں اور یقینی بنائیں کہ قانونی مدت کے اندر ٹرائل مکمل ہوں تاکہ متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو یہ سفارش بھی کی کہ نجی افراد کو تیزاب فروخت کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
عدالت نے قانونی ضرورت کے تحت تیزاب کی فروخت کے لیے مرکزی ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی تجویز دی، جس کے تحت خریدار کی مکمل تفصیلات، تصویر، بائیومیٹرک تصدیق اور خریداری کا مقصد ریکارڈ کیا جائے۔
عدالت کے مطابق اس نظام سے دستی ریکارڈ کا خاتمہ ہوگا اور متعلقہ ادارے حقیقی وقت میں تیزاب کی خرید و فروخت کی نگرانی کر سکیں گے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی ہیں۔
یہ مقدمہ 4 ستمبر 2019 کے اس واقعے سے متعلق ہے جب عبد المنان نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے کچن میں کھانا پکانے والی ایک نوجوان خاتون کے چہرے پر سلفیورک ایسڈ پھینک دیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ خاتون کا چہرہ، سینہ، کمر، بائیں ٹانگ اور پاؤں شدید جھلس گئے جبکہ ان کا بایاں کان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
جنوری 2020 میں عدالتی کارروائی کے دوران طبی معائنے میں معلوم ہوا کہ خاتون نہ چل سکتی تھیں، نہ حرکت کر سکتی تھیں اور نہ ہی آرام سے لیٹ سکتی تھیں۔ حملے کے بعد سے وہ بستر پر ہیں۔
عبد المنان نے الزامات کی تردید کی، تاہم اپنے دفاع میں کوئی مؤثر ثبوت پیش نہ کر سکے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق وقوعے کے وقت ان کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان تھی۔
ان کے وکیل نے کم عمری کی بنیاد پر رعایت کی درخواست کی، تاہم استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی سفاکانہ کارروائی کے لیے عمر کو ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
یکم فروری 2020 کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عبد المنان کو عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے 21 نومبر 2022 کو لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔


