آزاد کشمیر میں احتجاج کے لئے  خواتین اور بچوں کو ڈھال بنانے کا منصوبہ بے نقاب

0
12

مظفرآباد/اسلام آباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر حکومت نے موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وفاق سے اضافی سیکیورٹی فورسز طلب کر لی ہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان مذاکرات کے لیے گرینڈ کشمیر امن جرگہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی ترجمان چوہدری غفران حسین اور پولیس ترجمان ڈی آئی جی عرفان مسعود کاشفی نے کہا کہ قانون کی عملداری یقینی بنانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں تسلیم کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں تنظیم بنیادی عوامی مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوگئی، جس کے باعث اسے قانون کے مطابق کالعدم قرار دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ 36 روز سے جاری دھرنے کے باعث خصوصاً پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی جبکہ شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بندش سے عوام کی آمدورفت معطل اور کئی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ بند شاہراہیں کھلوائی جائیں، تاہم ہر کوشش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

چوہدری غفران حسین نے الزام عائد کیا کہ خوراک لے جانے والے ٹرکوں پر حملے، لوٹ مار اور گاڑیوں سے ڈیزل نکالنے جیسے واقعات کسی بھی پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آئندہ احتجاج میں خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن کے ہاتھوں میں قرآن مجید اور سفید جھنڈے دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے اس عمل کو مذہبی تقدس اور اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔

ترجمان نے یہ بھی الزام لگایا کہ طلبہ و طالبات کو اسکول اور کالج کے یونیفارم میں بدھ کے روز مظفرآباد لانگ مارچ میں شریک ہونے اور انہیں فرنٹ لائن پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی مکمل ذمہ داری کالعدم تنظیم پر ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات کے شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا تاخیر کا کوئی امکان نہیں اور آزاد، منصفانہ، شفاف اور پُرامن انتخابات کے لیے تمام انتظامی اور سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

دریں اثنا محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے وفاقی وزارت داخلہ سے فیڈرل کانسٹیبلری کے 4 ہزار اہلکاروں اور پاکستان رینجرز کی سات ونگز فوری تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 174 زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت نے اضافی نفری کے لیے انسداد ہنگامہ آرائی کا سامان اور ضروری اسلحہ فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی نے منصورہ لاہور میں منعقدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں گرینڈ کشمیر امن جرگہ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جرگہ حکومت آزاد کشمیر اور جے اے اے سی کے درمیان مذاکرات کرائے گا تاکہ خطے میں امن بحال کیا جا سکے۔

انہوں نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس میں ڈاکٹر محمد مشتاق خان، عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود شامل ہیں، جبکہ بعد ازاں سابق ججز، ریٹائرڈ سول و فوجی افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری مذاکرات شروع کرے کیونکہ موجودہ بحران کا واحد حل بات چیت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کمیٹی جلد راولاکوٹ کا دورہ کرکے جے اے اے سی قیادت سے ملاقات کرے گی۔

انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں کے تنازع پر کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے بعض تحفظات جائز ہو سکتے ہیں، تاہم بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی آئینی نمائندگی ختم نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان بنیادی اختلاف انہی مخصوص نشستوں کے معاملے پر ہے۔ حکومت نے جون میں تنظیم کو کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جبکہ ہفتہ کے روز ارجہ اور راولاکوٹ کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں