پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں جاری، آپریشن شابان میں اہم پیش رفت

0
11

کوئٹہ (ایم این این): سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں جاری آپریشن شابان کے دوران مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جس کے بعد صوبے میں مختلف انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 102 ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن زیارت کے منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا اور اس میں پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس مشترکہ طور پر حصہ لے رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 16 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ حالیہ فضائی اور زمینی کارروائی میں مزید 9 دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد صرف آپریشن شابان کے تحت ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 64 تک پہنچ گئی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران اب تک 102 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مربوط فضائی اور زمینی کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، تاہم حالیہ تین دہشت گرد حملوں میں 42 افراد شہید ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ بلوچستان میں جاری آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

ایک الگ کارروائی میں این-25 شاہراہ کے قریب دو دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، دستی بم، موٹر سائیکلیں اور موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔

چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا تھا کہ منگی ڈیم پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے دوران پولیس اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے ابتدائی جھڑپ میں 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردوں نے مزید اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جنہیں بعد میں سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کے ذریعے بازیاب کرانے کی کوشش کی۔

پاکستان میں 2021 کے بعد خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس صورتحال کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضبُ للحق شروع کیا، جس کے تحت حکام کے مطابق سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد دہشت گرد ہلاک و زخمی ہوئے۔

اکتوبر 2025 میں سرحدی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان اور ان سے وابستہ عناصر نے سرحدی چوکیوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں 200 سے زائد جنگجو مارے گئے جبکہ 23 پاکستانی فوجی وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ متعدد سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے باوجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں