قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر پاکستان میں یومِ سوگ، وزیراعظم شہباز شریف آج دوحہ روانہ ہوں گے

0
15

سلام آباد/دوحہ (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر تعزیت کے اظہار کے لیے پیر کو ایک روزہ سرکاری دورے پر دوحہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات بھی کریں گے۔

وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران خطے کی تازہ صورتحال، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے تبادلے پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے، جس کے باعث پاکستان اور قطر کی ثالثی سے جاری امن کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

دریں اثنا حکومتِ پاکستان نے قطر کے سابق امیر کے انتقال پر 13 جولائی کو ملک بھر میں قومی یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یومِ سوگ کے موقع پر ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ حکومت نے قطر کی قیادت، شاہی خاندان اور عوام سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ایک مدبر، دوراندیش اور عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے قطر کو ایک جدید، خوشحال اور عالمی سطح پر باوقار ریاست میں تبدیل کیا۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم کی قومی ترقی، علاقائی امن، بین الاقوامی تعاون اور عوامی فلاح کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ان کی محبت، گرمجوشی اور متعدد دورۂ پاکستان کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں شیخ حمد کی بصیرت افروز قیادت اور قطر کی ترقی، امن اور علاقائی تعاون کے فروغ میں ان کے کردار کو سراہا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے قطر کی جدید ترقی کی بنیاد رکھی اور پاکستان و قطر تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

قطری حکومت نے اتوار کے روز سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال کا اعلان کیا۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔

امیری دیوان کی جانب سے جاری بیان میں ان کے انتقال کو قوم کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا گیا۔ اتوار کی شام نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ ملک بھر میں کئی روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور سرکاری اداروں میں تعطیل کے ساتھ قومی پرچم سرنگوں کر دیے گئے۔

شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر کی قیادت کی اور انہیں جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے 1995 میں اقتدار سنبھالا اور ایک نسبتاً چھوٹی خلیجی ریاست کو عالمی سطح پر بااثر ملک میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں قطر دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کنندگان میں شامل ہوا اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے لگا۔

ان کے دور میں 1996 میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا، جو بعد ازاں خطے اور دنیا کے مؤثر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہو گیا۔

انہوں نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی، جس نے دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جن میں ووکس ویگن، ہیروڈز اور پیرس سینٹ جرمین جیسے ادارے شامل ہیں۔

شیخ حمد کے دورِ حکومت میں قطر نے 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کیے، جسے ملک کی عالمی شناخت میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے غزہ میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں اور صحت کے شعبے میں بھی نمایاں معاونت فراہم کی۔

جون 2013 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا، جسے جدید عرب دنیا میں اقتدار کی پرامن منتقلی کی ایک منفرد مثال قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی سفارتی، اقتصادی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے قومی یومِ سوگ کا اعلان دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور مرحوم قطری رہنما کے لیے پاکستان میں موجود احترام کا واضح اظہار ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں