6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید وسیع

0
11

تہران/دوحہ/واشنگٹن (ایم این این): ایران کے ساتھ جاری جنگ میں پہلی مرتبہ چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد خلیج میں جنگ نے مزید خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف تازہ فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ یکم مارچ کو کویت کے پورٹ شعیبہ میں واقع امریکی فوجی اڈے کے قریب ایرانی ڈرون حملے میں 103ویں ایکسپیڈیشنری سسٹینمنٹ کمانڈ سے تعلق رکھنے والے چھ امریکی فوجی ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اہل خانہ کو اطلاع دینے کے بعد پینٹاگون نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت بھی جاری کر دی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹس کے مطابق حملے میں بچ جانے والے فوجیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حملے سے قبل ڈرون خطرات کے حوالے سے اعلیٰ فوجی قیادت کو متعدد بار خبردار کیا تھا، تاہم ان خدشات پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے کویت میں امریکی ہائیمارس (HIMARS) میزائل لانچرز اور ان کے اسلحہ ذخائر کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

کویت کی وزارت دفاع نے ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بتایا کہ تین سرحدی مراکز اور کویت آئل کمپنی کے زیر انتظام ایک سمندری آئل ڈرلنگ پلیٹ فارم پر حملہ ہوا جس سے ایک کارکن زخمی اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت کے علاوہ قطر، بحرین، عمان، اردن اور متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم متعلقہ حکومتوں نے ان دعوؤں کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔

قطر نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور ایران کو اس کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

عمان نے بھی ایرانی ڈرون حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا، جبکہ بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

ادھر ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں واقع بندر عباس، جزیرہ قشم اور حاجی آباد کے قریب تازہ امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

بندر عباس ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ اور درآمدات و برآمدات کا مرکزی مرکز ہے جبکہ جزیرہ قشم آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کے لیے انتہائی اہم فوجی، بحری، ریڈار اور مواصلاتی تنصیبات کا حامل علاقہ ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جزیرہ قشم پر 10 سے 11 میزائل یا پروجیکٹائل فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی حکام کے مطابق بندر عباس اور حاجی آباد میں ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام متاثرہ مقامات فوجی نوعیت کے تھے۔

ایران کی سرکاری بجلی کمپنی توانیر نے بتایا کہ تازہ امریکی حملوں سے قومی بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کمپنی کے مطابق دو ہزار سے زائد مقامات متاثر ہوئے جس کے باعث بجلی کی پیداوار میں تقریباً 4,200 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

کمپنی کے سربراہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

تازہ حملوں نے پاکستان اور قطر سمیت علاقائی ثالثوں کی سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ مسلسل فوجی کارروائیوں نے خطے میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں