انڈس واٹرز ٹریٹی کی معطلی کے بھارتی اقدام کے خلاف سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کے احتجاجی مظاہرے

0
11

حیدرآباد/کراچی (ایم این این): پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اتوار کے روز سندھ بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کرکے بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی (IWT) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔

کراچی، حیدرآباد، تھر، میرپورخاص، لاڑکانہ، شکارپور، نوشہروفیروز، دادو اور دیگر شہروں میں کارکنان نے "مرسوں مرسوں، سندھو نہ دیسوں” کے نعرے کے ساتھ احتجاج کیا اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

حیدرآباد میں مرکزی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری عالمی سطح پر انڈس واٹرز ٹریٹی کا مقدمہ اٹھا چکے ہیں اور پاکستان کے آبی حقوق کے مکمل تحفظ تک اپنی سفارتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ریلی شاہباز بلڈنگ چوک سے شروع ہو کر حیدرآباد پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی جہاں ایم این اے طارق شاہ جموٹ، وسیم راجپوت، عزیز دھامراہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ پاکستان کے قومی مفادات اور وفاق کی مضبوطی کی ضامن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی فورمز پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا اور وہ اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی سندھ کے ہر شہر اور گاؤں میں عوامی رابطہ مہم چلائے گی تاکہ دریائے سندھ اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عوام کو متحرک کیا جا سکے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی تھی اور آج بھی صوبائی خودمختاری اور منصفانہ آبی تقسیم کے اصول پر قائم ہے۔

حیدرآباد کے پھلیلی روڈ پر ایم پی ایز اعجاز شاہ بخاری اور خرم کریم سومرو کی قیادت میں ہونے والی ریلی میں مقررین نے بھارت کے اقدامات کو "آبی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ پانی کی قلت سندھ کی زراعت، پینے کے پانی اور انڈس ڈیلٹا کو شدید متاثر کر رہی ہے۔

رہنماؤں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ 1991 کے واٹر اکارڈ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ سندھ کو اس کا جائز پانی مل سکے۔

ادھر کراچی میں سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے سندھ اسمبلی سے کراچی پریس کلب تک ریلی کی قیادت کی جبکہ سینیٹر وقار مہدی نے کیماڑی اور ایم این اے شرمیلا فاروقی نے ضلع شرقی میں احتجاجی مظاہروں سے خطاب کیا۔

کراچی پریس کلب کے باہر خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ دریائے سندھ صرف سندھ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی شہ رگ ہے اور تقریباً 25 کروڑ پاکستانیوں کو پینے اور آبپاشی کا پانی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی قانون بھارت کو انڈس واٹرز ٹریٹی یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اگر پاکستانی عوام کو ان کے پانی اور خوراک سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس ہفتے پاکستان کی عسکری قیادت بھی واضح کر چکی ہے کہ انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق "اقدامِ جنگ” تصور کیا جائے گا۔

سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ بھارت کا اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا غیر انسانی اور ناقابل قبول عمل ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی، سفارتی اور عوامی سطح پر جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں