مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

0
12

کراچی/اسلام آباد (ایم این این): پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے اور سرمایہ کاروں کی بے یقینی کے باعث بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان غالب رہا۔

بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 173,518.81 پوائنٹس پر بند ہوا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 6,408.23 پوائنٹس یا 3.56 فیصد کی نمایاں کمی ہے۔

کاروباری دن کے دوران انڈیکس ایک موقع پر 173,349.41 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا، جبکہ بلند ترین سطح بھی گزشتہ اختتامی سطح سے نیچے رہی۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

معاشی تجزیہ کار اے اے ایچ سومرو کے مطابق جنگ کے خدشات اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک خطے کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو احفظ مصطفیٰ نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کارپوریٹ نتائج بھی مارکیٹ کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ مسلسل دوسرا روز تھا جب اسٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔ پیر کو بھی کے ایس ای-100 انڈیکس دو ہزار تین سو سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا تھا۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جب امریکا نے ایرانی بحری جہازوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر خدشات بڑھا دیے۔

برینٹ خام تیل 86 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً بیس فیصد ترسیل ہوتی ہے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے امریکی مفادات پر حملوں کے دعوے کیے جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔

ادھر یورپی اور امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی منفی رجحان دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مؤقف نے بھی عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان فیصلوں کے عالمی مالیاتی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں