اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر کسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ اسلام آباد نے ریاض کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے سے مکمل وابستگی کا اعادہ بھی کیا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے حالیہ حوثی میزائل حملوں کے بعد ایرانی حکام کو اعلیٰ سطح پر یہ مؤقف پہنچایا ہے۔
عہدیدار کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ "سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور یہ ہماری سرخ لکیر ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔ حوثیوں کا مؤقف تھا کہ سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد چار سالہ جنگ بندی کے باوجود سرحد پار حملے کا واقعہ پیش آیا۔
پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ سال باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسلام آباد کو توقع نہیں تھی کہ خطے میں کشیدگی اتنی تیزی سے بڑھے گی، خصوصاً اس وقت جب پاکستان حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب تعینات ہیں، جس کے باعث تنازع مزید بڑھنے کی صورت میں پاکستان براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اگر حوثی حملوں میں اضافہ ہوا تو بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، جو پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان فی الحال تمام علاقائی فریقوں سے رابطے برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اگر حملوں کا دائرہ وسیع ہوا تو اسلام آباد کو مزید سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں گزشتہ کشیدگی کے دوران تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے پر حکومت کو ہنگامی اقدامات، بشمول کاروباری اوقات میں کمی، کرنا پڑی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا مقصد صرف سفارتی کردار ادا کرنا نہیں بلکہ توانائی کی ترسیل اور اہم تجارتی راستوں کا تحفظ بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم اگر سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اپنے معاہدے کے مطابق ریاض کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
یہ رپورٹ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے نامعلوم پاکستانی حکام کے بیانات پر مبنی ہے، جس کی پاکستان حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔


