پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2023 کے بعد کم ترین سطح پر

0
5

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 2023 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی ٹیکس پالیسیوں اور کاروباری ماحول میں مسلسل تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

جمعہ کو جاری ہونے والے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران پاکستان میں خالص غیر ملکی سرمایہ کاری 34 فیصد کمی کے بعد صرف 1.64 ارب ڈالر رہی، جو ملکی معیشت کے لیے تشویشناک اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

2022 کے معاشی بحران کے بعد متعدد بڑی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کر چکی ہیں۔ ان میں پراکٹر اینڈ گیمبل، ٹیلی نار، ٹوٹل انرجیز، شیل، اوبر اور مائیکروسافٹ شامل ہیں، جبکہ بعض کمپنیوں نے اپنے آپریشنز مقامی شراکت داروں کے حوالے کر دیے ہیں۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سربراہ عبدالعلیم کے مطابق ان کمپنیوں کی روانگی صرف سرمایہ کاری کا نقصان نہیں بلکہ پاکستان بہترین انتظامی صلاحیتوں، تجربہ کار قیادت اور ہنر مند افرادی قوت سے بھی محروم ہو رہا ہے۔

بلوم برگ سے گفتگو کرنے والے متعدد کاروباری عہدیداروں نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ مسلسل بدلتی ہوئی ٹیکس پالیسیاں اور غیر متوقع حکومتی فیصلے طویل المدتی منصوبہ بندی کو مشکل بنا رہے ہیں، جس کے باعث غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہی ہیں۔

پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر پر بنیادی 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کے علاوہ مختلف اضافی ٹیکسز اور سپر ٹیکس بھی عائد ہے، جس کے نتیجے میں بعض کمپنیوں پر مجموعی ٹیکس بوجھ 44 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ حالیہ بجٹ میں سپر ٹیکس میں معمولی کمی کی گئی، تاہم کاروباری حلقے موجودہ ٹیکس نظام کو اب بھی خطے کے مقابلے میں انتہائی سخت قرار دیتے ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل سمیت مختلف کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس سے ملکی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے موقف اختیار کیا کہ بعض کمپنیوں کی روانگی عالمی کاروباری حکمت عملیوں کا حصہ ہے، نہ کہ صرف پاکستان کی معاشی صورتحال کا نتیجہ۔ ان کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران 79 نئی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان آئیں جبکہ 19 کمپنیوں نے ملک چھوڑا۔

حکومت کی جانب سے معدنیات، توانائی، تیل، کرپٹو اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کے باوجود مجموعی ایف ڈی آئی کی صورتحال کمزور ہے۔ اس وقت چین پاکستان میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی توانائی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت اب بھی درآمدات، خصوصاً توانائی کی درآمدات، پر زیادہ انحصار کرتی ہے، جس کی وجہ سے ملک بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں حساس بنا ہوا ہے۔ 2022 کے شدید معاشی بحران کے بعد آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی مالی معاونت نے معیشت کو سہارا دیا، تاہم اس کے ساتھ سخت مالیاتی اصلاحات اور بلند ٹیکسوں نے کاروباری شعبے پر اضافی دباؤ ڈال دیا۔

فارماسیوٹیکل شعبہ بھی غیر ملکی کمپنیوں کی روانگی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ فارما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ ٹیمی حق کے مطابق پالیسیوں میں عدم تسلسل، دانشورانہ املاک کے قوانین پر کمزور عملدرآمد اور اعتماد کے فقدان کے باعث ادویات کی دستیابی متاثر ہوئی ہے اور پاکستان درآمدی ادویات پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔

دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کا اہم سہارا بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو جی ڈی پی کے 9 فیصد سے زائد کے برابر ہیں اور برآمدات و غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ترسیلات زر معیشت کو سہارا دے رہی ہیں، تاہم پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کو برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور مستقل معاشی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو جاوید قریشی نے ایف ڈی آئی کے تازہ اعدادوشمار کو "انتہائی مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے مستقل، شفاف اور قابلِ اعتماد پالیسیوں کی متقاضی ہیں، کیونکہ بار بار بدلتی پالیسیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کرتی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں