اسلام آباد (ایم این این): چیف کمشنر اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے میں قانونی اور طریقہ کار سے متعلق خامیاں موجود ہیں اور نجی ہسپتال منتقلی سے سیکیورٹی اور جیل انتظامیہ سے متعلق سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے دوران آنکھوں کے معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے دو ماہرین نے بھی حصہ لیا، جبکہ دیگر طبی معائنے اور ٹیسٹ پمز کے متعلقہ ماہرین نے کیے۔ آنکھوں کے معائنے سے حاصل ہونے والی طبی رائے کو پمز میں کیے گئے مختلف طبی ٹیسٹوں اور تحقیقات کے نتائج کے ساتھ مدنظر رکھا گیا۔
بعد ازاں پمز کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی طبی فٹنس رپورٹ مرتب کر دی۔ پمز انتظامیہ کے مطابق مریض کی رازداری اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے پیش نظر طبی رپورٹ میں شامل خفیہ اور ذاتی معلومات جاری نہیں کی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے 18 اگست کے حکم میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث حکام نے 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے سے کچھ دیر قبل انہیں سخت سیکیورٹی میں سرکاری پمز ہسپتال منتقل کر دیا۔
چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 میں کسی قیدی کو نجی ہسپتال میں داخل کرنے یا علاج کرانے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ درخواست کے مطابق قانون کے تحت قیدی کا علاج جیل ہسپتال، سول ہسپتال یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کیا جا سکتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے سے سیکیورٹی خطرات اور بیرونی اثر و رسوخ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی قیدی کا اپنی پسند کے نجی ڈاکٹر سے علاج کرانے پر اصرار جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں انتہائی تجربہ کار ڈاکٹر، پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین موجود ہیں، جو مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیف کمشنر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے انہیں مقدمے میں فریق بنائے یا نوٹس جاری کیے بغیر حکم جاری کیا، جس سے انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔ درخواست کے مطابق یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نظرثانی درخواست میں مزید کہا گیا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں عمران خان کی حالت کو تشویشناک قرار نہیں دیا گیا تھا اور کسی تکنیکی ماہر کی رائے حاصل کیے بغیر صرف میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر براہ راست منتقلی کا حکم دینا مناسب نہیں تھا۔
درخواست میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے جیل انتظامیہ سے متعلق معاملات پر اطلاق پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ فوجداری اپیل کی سماعت کرنے والی عدالت قانون میں فراہم کردہ اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتی۔
درخواست میں قیدیوں کی نقل و حرکت، ملاقاتوں اور رابطوں سے متعلق خصوصی رعایتوں پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ دوران قید یہ حقوق قانونی پابندیوں کے تابع ہوتے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک قیدی کو خصوصی سہولتیں دینے سے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کے اصول سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں اور دیگر قیدی بھی ایسی ہی سہولتوں کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
نظرثانی درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ عبوری مرحلے پر ہی حتمی نوعیت کا ریلیف دینا قانونی اصولوں کے منافی ہے۔
عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق معاملہ اب ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انہیں پمز منتقل کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی بنیادوں پر کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کو توہینِ عدالت قرار دے چکی ہے۔


