ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

0
8

تہران/اسلام آباد (MNN)؛ ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحری افواج نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب ایک امریکی بحریہ کی بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے مطابق امریکی فوج کی جدید ترین خودکار زیرِ آب گاڑیوں میں شامل ایک نظام کو پیچیدہ انٹیلی جنس اور فیلڈ آپریشن کے دوران قبضے میں لے کر ایران منتقل کیا گیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ قبضے میں لیا گیا نظام Dive-LD ہے، جو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Anduril Industries کی تیار کردہ خودکار بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام 2025 میں امریکی بحریہ کے Unmanned Undersea Vehicle Group 1 کو فراہم کیا گیا تھا۔

ایرانی میڈیا نے اس زیرِ آب نظام کو جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ قبضے میں لیے گئے امریکی اثاثے کی تصاویر اور تفصیلی ویڈیو جلد جاری کی جائے گی۔

آبنائے ہرمز میں امریکی MQ-1 ڈرون مار گرانے کا ایرانی دعویٰ

دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی MQ-1 ڈرون کو مار گرایا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی یونٹس نے ڈرون کا سراغ لگایا، اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کی اور جنوب مشرقی ایران میں اسے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈرون کو ایک نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا، جو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرتا ہے۔

تاہم ایرانی دعووں کی فوری طور پر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

ٹرمپ کا دعویٰ، امریکی ناکہ بندی سے ایران کو ’’بہت نقصان‘‘ پہنچا

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے اور انہوں نے اس کارروائی کو انتہائی مؤثر قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کے باہر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا اور اسے امریکی کارروائیوں سے ’’بہت نقصان‘‘ پہنچا ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امریکی فوج کی کارکردگی کو غیرمعمولی قرار دیا اور کہا کہ بحری ناکہ بندی انتہائی طاقتور اور مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

امریکا کا ایران سے منسلک 36 اہداف پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کے ہوا بازی کے شعبے سے منسلک 36 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ان پابندیوں میں 27 ایئر لائنز کے علاوہ متعدد کمپنیوں اور ایسے ثالثوں کو شامل کیا گیا ہے جن پر ایران کو ہتھیاروں، اہلکاروں اور غیرقانونی سامان کی منتقلی میں معاونت کا الزام ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بعض کمپنیوں اور درمیانی کردار ادا کرنے والے اداروں پر تہران کو امریکی ساختہ طیاروں اور ہوا بازی سے متعلق ٹیکنالوجی کے حصول میں مدد دینے کا بھی الزام ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اقدامات کا مقصد ایرانی حکومت کو مالی معاونت فراہم کرنے والے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے پابندیوں کا شکار ایرانی ایئر لائنز کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ انہیں عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امریکی دفتر برائے غیرملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ان تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جن پر ایرانی ہوا بازی کے پابندیوں سے متاثرہ آپریشنز کی معاونت کا الزام ہے۔

ایران کا امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپسی کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو خطے میں موجودہ کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عراقچی نے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حل سادہ ہے، اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا اور ان پر عمل کرتا ہے تو حالات کو معمول پر لانے کی راہ کھل سکتی ہے۔

عراقچی نے جاپانی ہم منصب کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے بھی آگاہ کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے عارضی بحری آمدورفت کے راستے کے قیام سے متعلق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ مستقل انتظام کے طریقہ کار پر مزید مشاورت جاری رہے گی۔

جاپان کا فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ

جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال میں جلد کمی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ موجودہ تعطل کو طویل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔

موتیگی نے ایرانی جانب سے شہری بحری جہازوں پر مبینہ حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور تہران سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

جاپان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری آمدورفت جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے اور اس پر اضافی اخراجات عائد نہیں ہونے چاہییں۔

ٹوکیو کے مطابق آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق کسی بھی انتظام پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق عالمی برادری، خلیجی ساحلی ممالک، اس آبی راستے کو استعمال کرنے والے ممالک اور عالمی بحری تنظیم سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر بات کرنی چاہیے۔

موتیگی نے ایران پر زور دیا کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کو بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دے اور باب المندب آبنائے میں استحکام یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ایرانی صدر کا جارحیت کے خلاف بھرپور دفاع کا اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ جنگ کا مخالف رہا ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کے خلاف ملک اپنے دفاع میں مکمل طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

ایکس پر جاری بیان میں پزشکیان نے کہا کہ ایران کی ترجیح عوام کے مفادات اور علاقائی سلامتی کا تحفظ ہے، تاہم ملک ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہے گا۔

ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کے گرد مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں امریکی ناکہ بندی کے دائرے سے آبنائے ہرمز اور خلیج تک پھیلنے والے ممکنہ ’’بحری اخراجی زون‘‘ کی تشکیل بھی شامل ہے۔

ایران کی امریکی جنگی جہازوں کے خلاف بحری ردعمل کی دھمکی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معاشی دباؤ جاری رہا تو ایران خلیج فارس میں وسیع بحری ردعمل اختیار کرسکتا ہے۔

محسن رضائی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایران نے امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے اپنی آپریشنل پوزیشن میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔

ایران کے پاس میزائل اور ڈرون صلاحیتیں موجود ہیں جن سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے بھی دعویٰ کیا کہ ایران اقتصادی پابندیوں کے نفاذ میں کردار ادا کرنے والے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحری راستوں کے ذریعے ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے نتائج ایرانی عسکری صلاحیتوں کے ذریعے واضح ہوجائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں