بلوچستان میں کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک، 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد برآمد

0
5

کوئٹہ/راولپنڈی (MNN)؛ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ تقریباً 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خاران میں 6 ستمبر جبکہ واشک میں 7 ستمبر کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔ فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق ریاست کی جانب سے فتنۃ الہندوستان قرار دیے گئے نیٹ ورک سے تھا۔

خاران میں دہشت گردوں نے مبینہ طور پر سڑک پر رکاوٹیں قائم کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو گھیر لیا اور فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

واشک میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک منصوبہ بندی کے تحت آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کی کمین گاہ کا سراغ لگا کر اسے تباہ کر دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید تین دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جو مبینہ طور پر دیسی ساختہ بموں (آئی ای ڈیز) کی تیاری میں استعمال کیا جانا تھا۔

علاقے میں مزید ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رکھنے کا بھی بتایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے مذموم عزائم ہر صورت ناکام بنائے جائیں گے اور فتنۃ الہندوستان نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خاران میں سڑک بلاک کرکے ٹریفک معطل کرنے کی کوشش ناکام بنانے اور واشک میں دہشت گردوں کی کمین گاہ تباہ کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث سکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے پشین کے علاقے زیارت کراس میں این-50 نیشنل ہائی وے پر واقع کسٹمز ہاؤس پر حملہ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ افراد شہید ہوئے۔

31 اگست کو چاغی کے نوچکا علاقے میں غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرکے بھتہ خوری اور کوئٹہ-تفتان این-40 ہائی وے پر ٹریفک روکنے والے 11 دہشت گرد بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔

2 ستمبر کو ضلع قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران مزید 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 4 ستمبر کو مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کی جانے والی متعدد ہائی ٹیمپو کارروائیوں میں مزید 36 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں سبی کے بھاگ علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات جولائی میں 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہو گئے، جس کے باعث صوبہ ملک میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا۔

دو پاک بحریہ اہلکار شہید

دریں اثنا، پاک بحریہ کے دو اہلکار سمندری حدود میں سکیورٹی گشت کے دوران شہید ہو گئے۔

پاک بحریہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے مطابق شہید ہونے والوں میں شعیب الرحمٰن (PMA-IV) اور غفران ناصر (PMT-II) شامل ہیں، جو سمندر میں سکیورٹی گشت کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاک بحریہ کے سینئر حکام نے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔

پاک بحریہ نے مارچ میں قومی جہاز رانی اور سمندری تجارت کو درپیش مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشن محافظ البحر شروع کیا تھا۔

پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستے سے ہونے کے پیش نظر آپریشن کا مقصد اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنا اور تجارتی جہاز رانی کی بلا تعطل روانی یقینی بنانا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں