پاکستان کا مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانوی پابندی کا خیرمقدم

0
7

لندن/اسلام آباد (MNN)؛ پاکستان سمیت سات عرب اور مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر برطانیہ کی جانب سے عائد تجارتی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

برطانیہ نے کینیڈا اور فرانس کے ساتھ مل کر منگل کو یہ اقدامات نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر “آنکھیں بند” کیے ہوئے ہے، جنہیں انہوں نے “نسلی تطہیر” قرار دیا۔

پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کرے گی اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور افراد کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔

وزرائے خارجہ نے 12 یورپی ممالک کے مشترکہ بیان کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2334، کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ساتوں ممالک نے برطانیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو عالمی عدالت انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے سے بھی ہم آہنگ قرار دیا، جس میں ریاستوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو قانونی تسلیم نہ کریں اور اسے برقرار رکھنے میں معاونت فراہم نہ کریں۔

مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر قانونی بستیوں سے متعلق تمام اقدامات واپس لے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں ترک کرے۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے پیش کردہ “جامع منصوبے” پر مکمل اور فوری عمل درآمد کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار اور جامع امن کا واحد قابل عمل راستہ دو ریاستی حل ہے، جس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔

پاکستان کا فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

پاکستان کے دفتر خارجہ نے الگ بیان میں برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے لیے عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسلام آباد نے کہا کہ برطانوی اور دیگر ممالک کے اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کارروائیوں کو مسترد کرنے کا واضح پیغام ثابت ہونے چاہئیں۔

پاکستان نے ان ممالک کے اقدامات کی بھی حمایت کی جو اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں اور فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔

اسرائیل کا برطانیہ کے خلاف جوابی اقدام

برطانیہ کے فیصلے کے ردعمل میں اسرائیل نے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیل نے غزہ میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے انتظامات کی نگرانی کرنے والے برطانوی نمائندوں کو ملک سے نکالنے، فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کی برطانوی تربیت روکنے اور 12 برطانوی شہریوں، جن میں زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی اقدامات کو “افسوسناک اور نقصان دہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

بی بی سی ریڈیو سے گفتگو میں انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ تجارتی پابندیوں سے برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم انٹیلی جنس اور سکیورٹی روابط موجود ہیں اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ ملی بینڈ نے مزید کہا کہ ایران سے درپیش سکیورٹی خطرات کے معاملے پر بھی برطانیہ اسرائیل کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں