چینی بندرگاہ پر کارگو جہاز میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی

0
27

بیجنگ (MNN)؛ چین کے مشرقی ساحلی شہر چنگ ڈاؤ کی بندرگاہ پر غیر ملکی پرچم بردار کارگو جہاز میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے، جن میں وہ پانچ افراد بھی شامل ہیں جو ابتدائی طور پر لاپتا قرار دیے گئے تھے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق آگ لگنے کے وقت بلک کیریئر میں 42 افراد سوار تھے۔ جہاز چنگ ڈاؤ بندرگاہ پر مرمت اور دیکھ بھال کے لیے لنگر انداز تھا۔

حادثے کے بعد 17 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جن میں پانچ زخمی بھی شامل تھے۔ تاہم جمعرات کی شام تک لاپتا تمام 25 افراد کا سراغ لگا لیا گیا، لیکن ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ملا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق فائر فائٹرز نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً دوپہر ڈھائی بجے تک جہاز میں لگی کھلی آگ پر قابو پالیا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق آگ تقریباً صبح 11 بج کر 15 منٹ پر اس وقت لگی جب جہاز بندرگاہ پر مرمت کے لیے موجود تھا۔ فوری طور پر آتشزدگی کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔

قریب واقع رہائشی کمپاؤنڈ کے ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے جہاز سے اٹھتا ہوا گہرا دھواں دیکھا، تاہم کسی دھماکے کی آواز نہیں سنی۔

عینی شاہد کے مطابق اس نے اتفاقاً جہاز کی جانب سے دھواں اٹھتے دیکھا، تاہم اسے آگ کے شعلے نظر نہیں آئے۔ اس کا کہنا تھا کہ نہ تو دھماکے کی آواز سنائی دی اور نہ ہی کسی غیر معمولی بو کا احساس ہوا۔

ژنہوا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں اوشن میلوڈی (Ocean Melody) نامی بڑے بحری جہاز کو شپ یارڈ میں کھڑا دکھایا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں امدادی اہلکار جہاز کے عرشے پر موجود تھے اور اندر داخل ہو رہے تھے۔ جہاز کے سامنے بندرگاہ پر متعدد فائر ٹینڈرز اور ایمبولینسیں بھی موجود تھیں۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق 190 میٹر طویل اوشن میلوڈی ایک بلک کیریئر ہے جو لائبیریا کے پرچم تلے سفر کرتا ہے اور حادثے کے وقت چنگ ڈاؤ میں لنگر انداز تھا۔

صدر شی جن پنگ کا ذمہ داروں کے تعین اور مکمل تحقیقات کا حکم

چینی صدر شی جن پنگ نے حادثے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

ژنہوا کے مطابق صدر شی نے تمام متعلقہ محکموں اور مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ اس واقعے سے سبق حاصل کریں اور آگ لگنے کے تمام ممکنہ خطرات کی جامع نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

چین میں گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد سنگین صنعتی حادثات پیش آچکے ہیں، جس کے باعث صنعتی اداروں میں حفاظتی اقدامات اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

رواں سال اگست میں مشرقی صوبے فوجیان کے ایک شپ یارڈ میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی، جس میں ایک فائر فائٹر و امدادی کارکن ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔

گزشتہ نومبر میں ہانگ کانگ میں رہائشی بلند عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ایک بڑی آتشزدگی کے بعد چین نے بلند عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی تھی۔ اس واقعے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مئی میں وسطی چین میں آتش بازی بنانے والی ایک فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں 37 افراد ہلاک ہوئے، جو حالیہ برسوں کے دوران ملک کے مہلک ترین صنعتی حادثات میں شمار کیا گیا۔

اسی طرح جولائی میں فوجیان میں جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں