پنجاب میں ایک ہی روز 3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلے، انسدادِ بدعنوانی مہم تیز

0
2

اسلام آباد (MNN)؛ پنجاب حکومت نے صوبے کے محکمہ مال کے نچلے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایک ہی روز 3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلے کر دیے ہیں۔ یہ اقدام صوبائی سطح پر پٹواریوں کی تعداد کے لحاظ سے بڑے انتظامی ردوبدل میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر تبادلوں کا مقصد بدعنوانی پر قابو پانا، انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور سرکاری محکموں میں گورننس کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔

اگرچہ پٹواری سرکاری انتظامی ڈھانچے میں نسبتاً نچلے گریڈ کے اہلکار ہوتے ہیں، تاہم محکمہ مال کے روزمرہ امور میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ زمین کے ریکارڈ، انتقالات، ملکیتی دستاویزات اور دیگر ریونیو معاملات میں شہریوں کا براہِ راست واسطہ اکثر پٹواریوں سے ہی پڑتا ہے۔

زمین مالکان، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ براہِ راست رابطے کے باعث پٹواریوں کی تعیناتی اور تبادلے ہمیشہ محکمہ مال میں حساس انتظامی معاملات رہے ہیں۔ اس لیے حالیہ بڑے پیمانے پر تبادلے پنجاب حکومت کی جانب سے ریونیو انتظامیہ میں ایک نمایاں انتظامی مداخلت قرار دیے جا رہے ہیں۔

دیگر محکموں کے افسران کے خلاف بھی کارروائی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انسدادِ بدعنوانی مہم صرف محکمہ مال تک محدود نہیں رہی بلکہ متعدد دیگر محکموں کے اہلکار بھی کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق:

764 پولیس اہلکار
محکمہ خوراک کے 179 اہلکار
بورڈ آف ریونیو کے 41 اہلکار
محکمہ ایکسائز کے 50 اہلکار
محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 10 اہلکار
محکمہ ہاؤسنگ کے 5 اہلکار

کے خلاف تبادلے یا دیگر کارروائیاں کی گئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) نے چھاپوں اور کارروائیوں کے دوران مزید 176 اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا۔

مائنز اینڈ منرلز میں 42 ارب روپے کا دعویٰ

پنجاب حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ نظامی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں ایک سال کے دوران 42 ارب روپے کی رقم وصول یا محفوظ کی گئی۔

تاہم دستیاب اعداد و شمار میں یہ واضح نہیں کہ 42 ارب روپے میں کتنی رقم حقیقتاً وصول کی گئی، کتنی ممکنہ مالی نقصان سے بچائی گئی اور کتنی رقم کو محض تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس لیے اس دعوے کی مکمل نوعیت اور مالی حساب کی مزید وضاحت ضروری ہے۔

مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ اپنی سرکاری معلومات میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، اہم عہدوں سے افسران کی تبدیلی اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف اقدامات کا بھی ذکر کرتا ہے۔

اصل کامیابی کا پیمانہ عوامی سہولت ہوگی

3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلوں کا اصل اثر عام شہریوں کے لیے زمین سے متعلق معاملات میں سامنے آئے گا۔ اس اقدام کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکے گا کہ آیا انتقالات اور دیگر کیسز تیزی سے نمٹائے جاتے ہیں، زمین کے ریکارڈ میں بہتری آتی ہے اور ریونیو معاملات میں بدعنوانی یا شکایات میں کمی ہوتی ہے یا نہیں۔

پنجاب حکومت پہلے ہی ریونیو نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات اور آن لائن نظام کے فروغ پر زور دے رہی ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے بعض نظاموں کو آن لائن منتقل کرنے اور ٹیکس و ریونیو انتظامیہ کو مزید ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

3 ہزار سے زائد پٹواریوں کا ایک ہی دن میں تبادلہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کا براہِ راست اثر محکمہ مال کی اس سطح پر پڑتا ہے جہاں سرکاری اہلکار روزانہ کی بنیاد پر زمین اور جائیداد سے متعلق امور کے لیے شہریوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔

حکومت کے مطابق وسیع تر مہم کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے، تاہم حالیہ اقدامات کی عملی کامیابی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب انتظامی تبدیلیاں عوام کو تیز، شفاف اور مؤثر ریونیو خدمات کی صورت میں نظر آئیں گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں