لندن (MNN): برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے گلوچسٹر شائر میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے کے قریب پیش آنے والے ایک ’’اہم واقعے‘‘ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہ میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اتوار کی علی الصبح تین مشتبہ گاڑیوں کے ایئر بیس کی جانب جانے کی اطلاع ملنے کے بعد مسلح اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو حراست میں لیا۔ ابتدائی طور پر ان افراد کو دھماکا خیز مواد سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
واقعے کے بعد دیہی سڑک پر روکی گئی تین وینز کا معائنہ کرنے کے لیے فوج کے بم ڈسپوزل ماہرین کو طلب کیا گیا، جبکہ قریبی گاؤں ویلفورڈ کے تقریباً 85 خاندانوں کو احتیاطی طور پر گھروں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔ متاثرہ افراد کو قریبی تفریحی مرکز منتقل کیا گیا۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ نے تصدیق کی کہ فیئر فورڈ کے قریب رات کے وقت پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کی قیادت وہ خود کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور جائے وقوعہ کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے، جبکہ ایئر بیس کے داخلی راستے پر مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فضائی فوٹیج میں بم ڈسپوزل روبوٹ کو تینوں وینز کا معائنہ کرتے دیکھا گیا، جن میں سے دو کے پچھلے دروازے کھلے ہوئے تھے۔
گلوچسٹر شائر پولیس نے اس سے قبل واقعے کو ’’میجر انسیڈنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے متعدد افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ حکام نے گرفتار افراد کی شناخت اور قومیت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق وزیر اعظم اینڈی برنہم کو واقعے سے متعلق مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ ترجمان نے ہنگامی خدمات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہونے کے باعث اس مرحلے پر مزید تبصرہ مناسب نہیں ہوگا۔
وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے بھی ہنگامی اور خصوصی ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال سے نمٹا جا رہا ہے۔
فیئر فورڈ برطانوی فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کے 501st Combat Support Wing کا مرکز ہے۔ امریکی فضائی یونٹ نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے میں امریکی فضائیہ کا کوئی اہلکار ملوث نہیں تھا۔ یونٹ نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کا بھی اعلان کیا۔
علاقے کی رکن پارلیمنٹ روز سیویج نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا، تاہم کہا کہ پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ واقعہ قابو میں ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں مبینہ طور پر دشمن ریاستوں کی سرگرمیوں اور سکیورٹی خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے دوران پیش آیا ہے۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود ایران اور روس پر برطانوی سرزمین پر جرائم کے لیے پراکسیز کے استعمال کے الزامات عائد کر چکی ہیں، جبکہ متعلقہ ممالک مختلف مواقع پر ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران برطانوی فوجی تنصیبات کو 300 سے زائد مرتبہ ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ وزارت دفاع نے ان واقعات کے ذمہ داروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم یہ اعداد و شمار یورپی ممالک کی جانب سے مبینہ روسی ’’ہائبرڈ آپریشنز‘‘ کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں سامنے آئے۔
مارچ میں اُس وقت کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایران کے میزائل مقامات کے خلاف امریکی ’’دفاعی‘‘ کارروائی کے لیے برطانیہ کے دو فضائی اڈوں، جن میں فیئر فورڈ بھی شامل تھا، کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ برطانیہ نے جولائی میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کی مسلح افواج کسی بھی حملے سے ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے فیئر فورڈ سے امریکی بمبار طیاروں کی پروازوں کی اجازت نہ دینے کی وارننگ دی تھی۔


