اسلام آباد (MNN): پاکستان نے افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ اندرونی جھڑپوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے سے متعلق افغان طالبان حکومت کے الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور حقیقت سے عاری قرار دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نورستان میں ہونے والی مبینہ تشدد کی کارروائیوں سے پاکستان کو جوڑنے کے لیے کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان نورستان سمیت افغانستان کے کسی بھی علاقے میں اندرونی جھڑپوں میں اپنی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے اور داعش یا افغانستان میں سرگرم کسی بھی دوسرے دہشت گرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔
پاکستان کا یہ ردعمل افغان وزارتِ دفاع کے اس الزام کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ افراد سرحد عبور کرکے نورستان میں مبینہ تشدد میں شریک ہوئے۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کے حق میں کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
وزارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں، جن کی شناخت اور گرفتاری کے حالات واضح نہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو بظاہر پہلے سے تیار کردہ معلوم ہوتی ہے، تاہم بیان میں اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد نے افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے اندرونی سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں اور افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں دستاویزی شکل دی جا چکی ہے۔ وزارت نے بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت جاری مانیٹرنگ رپورٹ، جو 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک کی مدت کا احاطہ کرتی ہے، کے مطابق طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی مسلسل حمایت نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان آپریشنل اور سہولت کاری کے روابط کی نشاندہی بھی کی گئی۔
پاک افغان کشیدگی
سرحد پار دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر پاکستان کے مسلسل تحفظات کے باعث گزشتہ چند برسوں سے پاک افغان تعلقات کشیدہ ہیں۔
21 ستمبر کو خیبر پختونخوا میں بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ’’کیلِبریٹڈ‘‘ فضائی حملوں کی اطلاع دی اور دعویٰ کیا کہ کارروائی میں 28 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان کارروائیوں کو ’’آپریشن غضب لِلحق‘‘ کا حصہ قرار دیا، جس کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ اسے فروری میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ سرحد پار فائرنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو ٹورخم اور کوہاٹ کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے پر مار گرایا گیا۔ پاکستانی حکام نے ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر 10 مقامات پر ’’درست نشانے والے فضائی اور ڈرون حملوں‘‘ کا بھی اعلان کیا۔
جمعہ کو وزارتِ اطلاعات نے افغان وزارتِ دفاع کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ اسپن بولدک سرحد کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کر دی گئی ہے، اور اسے غلط قرار دیا۔


