اسلام آباد (MNN)؛ پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے یوکرین اور اس کے گرد و نواح کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے تنازع کے عسکری، سیاسی، معاشی، قانونی اور اطلاعاتی پہلوؤں پر روسی مؤقف پیش کیا۔
بریفنگ سے قبل شرکا نے محاصرہ لینن گراڈ کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ محاصرے کی 85ویں برسی 8 ستمبر کو منائی گئی تھی۔
روس میں 20 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے سفیر خوروف نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور روسی شہروں میں یوکرینی ڈرون حملوں کے باوجود ووٹنگ میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ رہا۔ ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد انتخابی عمل میں خلل ڈالنا تھا۔
سفیر نے یوکرین بحران کو روس اور ان کے بقول ’’اجتماعی مغرب‘‘ کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی قرار دیا اور کہا کہ مغربی ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے یوکرین کو بطور پراکسی استعمال کر رہے ہیں۔
مغربی پابندیوں کے بارے میں روسی سفیر نے کہا کہ یہ اقدامات روس میں مطلوبہ معاشی تباہی پیدا کرنے میں ناکام رہے، تاہم ان کے نتیجے میں پابندیاں عائد کرنے والے ممالک اور عالمی معیشت کو بھی نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 2022 سے 2025 کے دوران پابندیوں کے غیر ارادی اثرات سے یورپی یونین کو ایک سے 1.6 ٹریلین یورو جبکہ روس میں کاروبار بند کرنے والی یورپی کمپنیوں کو 400 سے 450 ارب یورو کے نقصانات ہوئے۔
سفیر کے مطابق پابندیوں کا دباؤ قومی کرنسیوں میں تجارت اور ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور آسیان کے اندر متبادل مالیاتی اور تجارتی نظام کی تشکیل کو بھی تیز کر رہا ہے۔
بریفنگ میں بین الاقوامی بحری قانون اور آزادانہ جہاز رانی کے معاملے پر بھی بات کی گئی۔ سفیر خوروف نے مغرب کی جانب سے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اصطلاح کو روسی بحری جہازوں پر قبضے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف میں شہری بحری جہازوں پر یوکرینی حملوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید کشیدگی بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے سفیر نے روس اور یوکرین کے عالمی گندم برآمدات میں حصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کا حصہ تقریباً 7 فیصد جبکہ روس کا حصہ 23 فیصد ہے۔ ان کے مطابق روسی زرعی برآمدات میں رکاوٹیں عالمی غذائی تحفظ پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
تنازع کے قانونی پہلو پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ روس یوکرین سے متعلق مغرب کے قائم کردہ معاوضے کے طریقہ کار کو تسلیم نہیں کرتا اور ایسے اداروں کے فیصلوں پر عمل درآمد کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے 15 جون 2026 کے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت نے متفقہ طور پر یوکرین کے متعدد دعوے مسترد کیے، جن میں معاوضے اور ہرجانے کے مطالبات سمیت کریمیا اور بحیرہ آزوف کے سمندری علاقوں اور وسائل سے متعلق دعوے شامل تھے۔
سفیر نے بچوں کے معاملے اور یوکرینی آرتھوڈوکس چرچ کی صورتحال پر بھی بات کی اور یوکرینی حکام پر چرچ اور اس کے ارکان کے خلاف منظم دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔
اختتام پر سفیر خوروف نے کہا کہ روس یوکرین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس کیف کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے بعد روس نے مذاکرات کی بحالی کا آغاز کیا اور روس اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس یورپ یا نیٹو ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری نہیں کر رہا، نہ ہی اس کا ایسا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی یورپ کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوئی حقیقی وجہ ہے۔
بریفنگ کے شرکا نے ’’کریمین گولڈ: ’مہذب‘ یورپ روسی خزانوں کو لوٹ رہا ہے‘‘ کے عنوان سے نمائش بھی دیکھی۔ سفیر نے کہا کہ دو ہزار سال سے زائد قدیم آثار پر مشتمل یہ منفرد مجموعہ کریمیا سے دریافت ہوا تھا اور 2014 تک کریمیا کے عجائب گھروں میں محفوظ رہا، اس لیے اسے واپس کریمیا پہنچایا جانا چاہیے۔


