اسلم ڈوگر
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے یوکرین کو محض ایک فوجی تنازع میں نہیں الجھایا بلکہ اسے آبادی، معیشت، سلامتی اور جغرافیے کے ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یوکرین اور افغانستان ایک جیسے ممالک نہیں ہیں، نہ ان کی تاریخ، جغرافیہ یا سیاسی صورتحال یکساں ہے۔ تاہم دونوں کے تجربات میں کچھ ایسی مماثلتیں ضرور موجود ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یوکرین طویل جنگ، بیرونی امداد اور سلامتی کے مسلسل انحصار کے باعث مستقبل میں افغانستان جیسی مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے۔
سب سے پہلے آبادی کا مسئلہ ہے۔ یوکرائن نے جب سوویت یونین سے الگ ہو کر 1991 میں ایک آزاد ریاست کے طور پر آغاز کیا تھا تو اس کی آبادی 52 ملین نفوس پر مشتمل تھی۔ آزادی کے بعد یوکرائن کی نوزائیدہ ریاست میں کرپشن اور بد انتظامی نے لوگوں کو مغربی یورپ کی طرف نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ نیٹو ممالک کی طرف سے یوکرائن میں ایک کٹھ پتلی حکومت لانے کی کوششوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ نے مزید لاکھوں یوکرینیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق لاکھوں یوکرینی اب بھی بیرون ملک پناہ گزین ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ملک کے اندر بھی بے گھر ہیں اور کسی نہ کسی طرح ملک سے نکلنے کے خواہشمند ہیں۔ یوکرائن کے حکمرانوں نے نوجوانوں کے ملک چھوڑنے پر اگرچہ پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود یوکرائن کے جوان لوگ بارڈر سکیورٹی والوں کو رشوت دے کر نکل رہے ہیں۔ یہ صرف موجودہ انسانی بحران نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جو نوجوان، خاندان اور ہنرمند افراد اب شائد اب کبھی یوکرائن واپس نہ آئیں کیونکہ یوکرائن میں بھی افغانستان کی طرح بے امنی، جنگ و جدل اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔
یوکرین کی پہلے سے کم ہوتی ہوئی شرحِ پیدائش اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ ملک میں شرح پیدائش تقریباً ایک بچے فی عورت تک پہنچ چکی ہے، جو آبادی کو طویل مدت میں برقرار رکھنے کے لیے درکار سطح سے بہت کم ہے۔ جنگ، معاشی غیر یقینی، بے روزگاری اور سکیورٹی کے خدشات اس صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ یوں آبادی کا بحران مستقبل میں افرادی قوت، ٹیکس آمدنی اور فوجی افرادی قوت، تینوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ جنگ نے یوکرین کی صنعت، توانائی، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یوکرائن کو اپنے جاری اخراجات کی ادائیگی کے لئے ہر سال اسی ارب ڈالر درکار ہیں۔ تعمیر نو کے لیے درکار رقم سیکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے حالات میں بیرونی مالی امداد یوکرین کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یورپ اور دیگر مغربی ممالک کی مدد کے بغیر یوکرین کے لیے موجودہ جنگی اخراجات اور ریاستی خدمات کو برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ صورتحال افغانستان کی یاد ضرور دلاتی ہے، جہاں کئی دہائیوں تک ریاستی ڈھانچے اور سکیورٹی کا ایک بڑا حصہ بیرونی امداد پر منحصر رہا۔ تاہم دونوں ممالک میں فرق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
تیسرا مسئلہ علاقائی نقصان ہے۔ روس یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں زرعی زمین، معدنی وسائل، صنعتی مراکز اور توانائی کے اہم ذخائر موجود ہیں۔ چنانچہ جنگ میں زمین کا نقصان صرف نقشے پر رقبے کا کم ہونا نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی صلاحیت میں کمی بھی ہے۔
دونیتسک کے علاقوں سے یوکرائن کو لوہا اور کوئلہ وافر مقدار میں ملتا تھا۔ پوکرووسک ضلع پر قبضہ کے بعد یوکرائن کی سٹیل کی صنعت دیوالیہ ہو چکی ہے۔
اوڈیسا کا معاملہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ بحیرۂ اسود پر واقع یہ شہر یوکرین کی تجارت اور برآمدات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر مستقبل میں روس جنوبی ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھاتے ہوئے اوڈیسا تک پہنچ جاتا ہے تو یوکرین کی سمندر تک براہِ راست رسائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ انتہائی صورت میں یوکرین خشکی میں گھری ریاست بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ یوکرائن لازماً افغانستان جیسی ریاست بن جائے گا۔
سب سے پیچیدہ سوال مستقبل کی سکیورٹی کا ہے۔ صدر ولودیمیر زیلنسکی بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ یوکرین کو یا تو نیٹو کی رکنیت ملنی چاہیے یا ایسی قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں دی جانی چاہئیں جو مستقبل میں روسی حملے کو روک سکیں۔ لیکن یہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایسی ضمانت کی نوعیت کیا ہوگی جو روس جیسے بڑے فوجی حریف کے خلاف واقعی قابلِ اعتماد ہو۔
مغربی ممالک یوکرین کو ہتھیار، فضائی دفاع، تربیت، انٹیلی جنس اور مالی مدد فراہم کر رہے ہیں، لیکن مستقل اجتماعی دفاعی ضمانت ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ اگر یوکرین کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑی فوج برقرار رکھنی پڑتی ہے تو اس کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ سے متاثرہ اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت اس دفاعی ضرورت کو طویل عرصے تک کس حد تک برداشت کر سکتی ہے۔
یہاں ایک مشکل چکر پیدا ہوتا ہے: کمزور معیشت کے لیے بڑی فوج برقرار رکھنا مشکل ہے، لیکن کمزور فوج کے ساتھ سلامتی یقینی بنانا بھی مشکل ہے۔ سلامتی غیر یقینی ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاری اور آبادی کی واپسی متاثر ہوتی ہے، جبکہ آبادی اور سرمایہ کاری کی کمی معاشی بحالی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
کرپشن اور اداروں پر اعتماد کا مسئلہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ جنگ کے بعد بیرون ملک موجود یوکرینیوں کو واپس لانے کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔ انہیں محفوظ ماحول، روزگار، رہائش، بنیادی سہولیات اور قابلِ اعتماد ریاستی ادارے بھی درکار ہوں گے۔ اگر یہ حالات پیدا نہ ہوئے تو آبادی کی واپسی محدود رہ سکتی ہے۔
اس لیے یہ بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یوکرائن یورپ کا افغانستان بن چکا ہے۔ افغانستان کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ طویل جنگ، بیرونی امداد اور سکیورٹی کے انحصار کے امتزاج سے ریاستی کمزوری پیدا ہو چکی ہے۔
آخرکار یوکرین کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ میں کتنی زمین واپس حاصل کی جاتی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جنگ کے اختتام پر اس کے پاس کتنی آبادی، کتنے معاشی وسائل، کتنی صنعتی صلاحیت اور اپنی سلامتی برقرار رکھنے کی کتنی آزادانہ صلاحیت باقی رہتی ہے۔
آخری مماثلت جو یوکرائن اور افغانستان کو ایک جیسی ریاست بناتی ہیں وہ دونوں ناکام ریاستوں کے حکمرانوں کا عوام کے سامنے بالکل جوابدہ نہ ہونا ہے۔ یوکرائن میں زیلنسکی اور افغانستان میں ملا ہیبت اللہ کسی ادارے کے سامنے جوابدہ نہیں اور نہ ہی ان کا اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ ہے۔
اسی معنی میں ’’یورپ کا افغانستان‘‘ ایک قطعی شناخت ہے۔


