اسلام آباد (MNN)؛ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں اپوزیشن کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور جمعہ کو مکمل ہوگیا، جس کے بعد دونوں جانب سے ہفتے کو دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوئے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور قومی اہمیت کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
مذاکرات کا دوسرا دور ہفتے کو دوپہر 2 بجے قومی اسمبلی اسپیکر چیمبر میں ہوگا۔
اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وہ مذاکرات میں بطور ثالث کردار ادا کر رہے ہیں اور سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ ہی مسائل کے حل کے لیے مناسب فورم ہے۔
حکومتی وفد میں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شامل تھے۔
اپوزیشن وفد میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔
پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کرنے کا مطالبہ
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ صرف ملتوی کرنے کے بجائے اسے غیر مشروط طور پر ختم کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں پی ٹی آئی لانگ مارچ واپس لے گی تاکہ ملک دیگر اہم سکیورٹی چیلنجز پر توجہ دے سکے۔
اپوزیشن کا لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کسی حتمی حل تک لانگ مارچ کی کال برقرار رہے گی۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مذاکرات کرے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ دونوں فریقین نے زیرِ بحث معاملات پر اپنے اپنے مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا ہے اور ہفتے کو مذاکرات جاری رہنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ پی ٹی آئی نے اس سے قبل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں کو اختیار دیا تھا، جبکہ پارٹی بانی عمران خان سے ملاقات بھی اس کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا جسے بعد ازاں 4 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔
حکومت کا خیبر پختونخوا میں ممکنہ اقدامات کا عندیہ
مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مجوزہ لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کے باعث حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی اقدامات کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ایسے کسی اقدام کی مخالفت اور اس کے خلاف سیاسی و قانونی ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
حکومت اس سے قبل بھی واضح کر چکی ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے لانگ مارچ جاری رکھا تو اسے اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔


