اسلام آباد/ریاض (MNN): پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے جمعرات کو اس خبر کو ’’جعلی اور من گھڑت‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے طیارے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی 7 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پی اے ایف کے لڑاکا طیارے حوثیوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے ایکس پر جاری بیان میں اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے خلاف پی اے ایف طیاروں کے استعمال سے متعلق رپورٹ ’’جعلی اور من گھڑت‘‘ ہے۔
وزارت نے بین الاقوامی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت پاکستانی فوجی دستوں کے ممکنہ استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔
وزارت نے کہا کہ اگر کسی تعیناتی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔
اس سے قبل وزارتِ اطلاعات نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو بھی قیاس آرائی قرار دیا تھا جس میں سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے پیر کو ریاض میں مکہ ڈیفنس الائنس کے ہنگامی اجلاس کے دوران سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کی سمت میں عملی اقدامات پر اتفاق کیا۔
7 اگست کو دستخط کیے گئے دفاعی معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پیر کے اجلاس کے بعد دفتر خارجہ نے کہا کہ رکن ممالک نے اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد اور سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد فوجی تیاری، باہمی انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کے رکن اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بعد ازاں ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بعض علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ عملی کردار کے بارے میں سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کی ’’تھیٹر میں موجودگی‘‘ ہے تاہم جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی افواج حصہ لے رہی ہیں۔
بدھ کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں اور کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سعودی عرب، حوثیوں میں کشیدگی میں اضافہ
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور بحیرہ احمر میں سعودی مفادات سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کر رہے ہیں۔
جمعرات کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ ایک روز قبل سعودی حکام نے دارالحکومت ریاض سمیت ملک کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت اور 36 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔
سعودی قیادت میں یمن کی حکومت نواز فورسز کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والا بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کر دیا ہے۔
حوثی گروپ یمن کے شمال مغربی بیشتر علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے اور جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑ رہا ہے۔ حوثیوں نے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر بھی قبضہ کیا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے بڑے جوابی حملے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی جنگجوؤں کو بحیرہ احمر کے اہم علاقوں اور بندرگاہی شہر المخا سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں پر بدستور قابض ہیں۔ تیزی سے بدلتی صورتحال اور صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث فریقین کے بیشتر جنگی دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
پاکستان مسلسل سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے۔ 18 ستمبر کو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جائے گا اور مملکت کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو غیر مشروط قرار دیا تھا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر یمن کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ’’عملی اور سفارتی‘‘ طور پر کھڑا ہوگا اور مکہ ڈیفنس الائنس کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں معاہدے کی شرائط کے مطابق پوری کرے گا۔
تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔


