وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا

0
9

اسلام آباد/پشاور (ایم این این)؛ وفاقی حکومت نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارشات کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیا گیا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق، کابینہ ارکان نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی پر تشویش کا اظہار کیا۔

فیصلے کے اعلان کے بعد پشاور سمیت صوبے کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹیلی کام ذرائع کے مطابق، بعض مقامات پر موبائل نیٹ ورک اور ڈیٹا سروسز کی رفتار کم یا انہیں عارضی طور پر بند کیا گیا، تاہم پورے صوبے میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں تھی۔

پشاور کی مختلف سڑکوں پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کیے گئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاری کی اطلاعات

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بھی سہیل آفریدی، پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔

تاہم، ان گرفتاریوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بعض افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سہیل آفریدی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی کو معلوم نہیں کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور انہیں کس حالت میں رکھا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، انٹرنیٹ کی بندش کے باعث رابطوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

پی ٹی آئی نے مبینہ گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام اور صوبے کی منتخب قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ پارٹی نے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی اور گرفتاریوں کی قانونی وجوہات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی کا ایمرجنسی مسترد کرنے اور عدالتی کارروائی کا اعلان

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری اقدام اور سنگین سیاسی غلطی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ قومی ترجیح ہے، لیکن انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو سیاسی مخالفین کو دبانے یا آئینی حقوق محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اس فیصلے کو عدالتوں، اسمبلیوں اور دیگر جمہوری فورمز پر چیلنج کرے گی۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ منتخب صوبائی حکومت کو غیر مؤثر بنانے سے وفاقی نظام اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

11 رکنی مشاورتی کونسل اور نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی امور میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل قائم کر دی۔

وفاقی حکومت نے گریڈ 22 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا چیف سیکریٹری بھی مقرر کر دیا۔ وہ اس سے قبل وفاقی وزارت توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر کام کرنے والے گریڈ 20 کے افسر محمد یحییٰ اخونزادہ کو بھی صوبائی حکومت کے سپرد کر دیا گیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اقدامات کا مقصد صوبے میں امن قائم کرنا، ترقی کو فروغ دینا اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

آئینی دفعات کیا کہتی ہیں؟

آئین کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے، جن میں جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی انتشار سے قومی سلامتی کو خطرہ شامل ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو۔

آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق ہے۔ اس کے تحت اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق، مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بغیر یہ اعلان دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، جبکہ کسی بھی صورت میں اس کی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

رپورٹ کے مطابق، صدر کی جانب سے منظور کردہ خلاصے میں آرٹیکل 233 کا ذکر نہیں تھا، جو ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق معطل کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ملک کی معاشی بحالی کا عمل غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں، پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی اہلکاروں، خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

وزیراعظم نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان رواں سال کے دوران 1.2 ارب ڈالر کی قسط حاصل کر لے گا۔

انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں