خیبر پختونخوا میں مرکز سے مکمل رابطہ کاری ہوگی، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے: گورنر کنڈی

0
14

پشاور/اسلام آباد (MNN)؛ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اب وفاق اور صوبے کے درمیان عدم رابطہ کاری کا دور ختم ہو چکا ہے اور صوبے کی پالیسیاں کابل کے بجائے اسلام آباد سے ہم آہنگ ہوں گی۔

پشاور میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی انتظامیہ کی پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ، پولیس کو مضبوط بنانا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر اس کے بعد توجہ دی جائے گی۔

گورنر نے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کو مطلوبہ وسائل، جدید اسلحہ، گاڑیاں اور افرادی قوت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے، شہداء پیکیج کی رقوم بڑھانے اور شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مربوط اور مؤثر اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے اور پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا پولیس کو 10 بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت صوبائی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

محسن نقوی نے قبائلی عمائدین سے مشاورت کو بھی اہم قرار دیا اور بتایا کہ ایمرجنسی کے تحت آنے والے 12 اضلاع کے مسائل حل کرنے کے لیے الگ ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان اضلاع کو صوبے سے الگ کرنا نہیں بلکہ وہاں امن و امان، بہتر طرز حکمرانی اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

گورنر نے کہا کہ انتظامیہ چوبیس گھنٹے کام کرے گی تاکہ امن بحال ہو، سڑکیں کھولی جائیں اور معمولات زندگی بحال ہوں۔ انہوں نے ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی اور یونیورسٹی ملازمین اور کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق کے ساتھ مناسب رابطہ کاری نہیں کی گئی۔ وفاقی حکومت بھی سابق صوبائی انتظامیہ پر انسداد دہشت گردی میں عدم تعاون کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی وفاقی سکیورٹی پالیسی کی مخالفت اور صوبے سے متعلق فیصلوں میں اسے نظرانداز کیے جانے کا مؤقف رکھتی ہے۔

وفاقی حکومت نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا تھا۔ نئے انتظامی نظام کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی مشاورتی کونسل کی معاونت سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کرے گی۔

دریں اثنا، خیبر پختونخوا کے محکمہ قانون نے انتظامی تبدیلی کے بعد ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 61 قانون افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا، جبکہ 27 نئے قانون افسران کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں